محسنِ پاکستان کے آخری ایام اور ریاستی سلوک
قسط پنجم (آخری)
مؤلف: طارق اقبال سوہدروی


فروری 2004ء کے اس دلخراش اور جبری اعتراف کے بعد، جب دنیا کی نظروں میں پاکستان کے ایٹمی اثاثے بظاہر محفوظ ہو گئے، تو ریاست نے سکھ کا سانس لیا۔ لیکن اس نام نہاد سلامتی کی قیمت ایک ایسے انسان نے چکائی جس نے اپنی پوری زندگی اس ملک کے دفاع کے لیے وقف کر دی تھی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان، جو کل تک اس قوم کی آنکھ کا تارا اور ‘محسنِ پاکستان’ تھے، راتوں رات ایک غیر علانیہ قیدی بنا دیے گئے۔ اسلام آباد کے سیکٹر ای سیون میں واقع ان کی اپنی ہی رہائش گاہ ان کے لیے ایک وسیع و عریض جیل میں تبدیل کر دی گئی۔ گھر کے چاروں طرف حساس اداروں اور سیکیورٹی اہلکاروں کا سخت ترین پہرہ بٹھا دیا گیا اور ان کی زندگی کے ہر پہلو پر ایک ناقابلِ تسخیر سنسرشپ نافذ کر دی گئی۔
یہ ایک ایسی خاموش اور اعصاب شکن تنہائی تھی جس کا کرب صرف وہی انسان سمجھ سکتا ہے جس نے اپنی جوانی، اپنا شاندار کیریئر اور اپنا سب کچھ ایک بے وفا محبوب پر نچھاور کر دیا ہو۔ ان کے قریبی دوستوں، پرانے رفقاء اور یہاں تک کہ رشتے داروں پر بھی ان سے ملنے پر کڑی پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ ٹیلی فون کی لائنیں کاٹ دی گئیں یا مسلسل نگرانی میں رکھی گئیں۔ وہ شخص جو روزانہ اپنی لیبارٹری میں سینکڑوں سائنسدانوں کی رہنمائی کرتا تھا اور جس کے ایک اشارے پر ملکی قیادت حرکت میں آ جاتی تھی، اب اپنے ہی ڈرائنگ روم میں اکیلا بیٹھا ماضی کی یادوں کو کریدتا رہتا تھا۔ ان کے لیے سب سے بڑی اذیت یہ نہیں تھی کہ وہ قید میں تھے، بلکہ سب سے بڑا دکھ یہ تھا کہ ان کے اپنوں ہی نے انہیں غیروں کے دباؤ میں آ کر اکیلا چھوڑ دیا تھا۔
حکومت کا موقف یہ تھا کہ یہ تمام تر حفاظتی اقدامات خود ڈاکٹر خان کی جان کو بیرونی ایجنسیوں کے خطرات سے بچانے کے لیے کیے گئے ہیں، لیکن حقیقت اس سے کوسوں دور تھی۔ دراصل، اس وقت کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ مغربی دنیا کو یہ یقین دلانا چاہتی تھی کہ انہوں نے اس ‘خطرناک’ شخص کو مکمل طور پر غیر موثر کر دیا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر خان کو بھی اس تلخ حقیقت کا پوری طرح ادراک ہو گیا تھا کہ جن اداروں کو بچانے کے لیے انہوں نے اپنے ماتھے پر داغ لگوایا، وہی ادارے اب ان کا نام تک لینے سے گریزاں ہیں۔ ان کے سینے میں دفن ریاستی راز اور وہ حقائق جو 2004 کے اس ٹی وی ڈرامے کی اصل حقیقت دنیا کے سامنے لا سکتے تھے، ریاست کے لیے ایک مسلسل خوف کا باعث بنے ہوئے تھے۔
جب قیدِ تنہائی طویل ہونے لگی اور ریاستی بے حسی نے تمام حدیں پار کر لیں، تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے انصاف کے حصول کے لیے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپنی نظربندی اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف کئی درخواستیں دائر کیں۔ ان قانونی لڑائیوں کے دوران قوم کو ان کے وہ خطوط اور بیانات پڑھنے کا موقع ملا جو انہوں نے اپنے وکلاء کے ذریعے باہر بھجوائے۔ ان خطوط میں ایک ٹوٹے ہوئے دل کی وہ کربناک آہیں چھپی تھیں جو کسی بھی باضمیر انسان کو رلا دینے کے لیے کافی تھیں۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ کیا ایک محسن کے ساتھ یہی سلوک روا رکھا جاتا ہے؟ کیا میری ساری خدمات کا صلہ یہ چند کمروں کی قید اور ریاست کی بے رخی ہے؟ عدالتوں نے وقتاً فوقتاً ان کی نقل و حرکت میں نرمی کے احکامات تو جاری کیے، لیکن ان فیصلوں پر کبھی ان کی روح کے مطابق عمل درآمد نہیں ہونے دیا گیا۔
سیکیورٹی اداروں کا گھیرا کبھی کم نہ ہوا۔ جب وہ کبھی ہسپتال جانے یا کسی انتہائی ضروری کام سے باہر نکلنے کی کوشش کرتے، تو ان کے اردگرد موجود سیکیورٹی اہلکار ان کے ساتھ ایسا سلوک کرتے جیسے وہ کوئی انتہائی خطرناک مجرم ہوں۔ ان کی ہر نقل و حرکت کی ویڈیو بنائی جاتی اور انہیں عوام سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی۔ سالہا سال کی اس ذہنی اذیت اور قیدِ تنہائی نے ان کی صحت پر انتہائی تباہ کن اثرات مرتب کیے۔ ایک ایسا شخص جس کا ذہن کائنات کی پیچیدگیوں اور ایٹمی سائنس کے رازوں کو منٹوں میں سلجھا لیتا تھا، اب جسمانی اور اعصابی کمزوریوں کا شکار ہونے لگا تھا۔ ان کی یادداشت متاثر ہونے لگی تھی اور مختلف بیماریوں نے انہیں گھیر لیا تھا، لیکن ان کا حوصلہ اور ان کی حب الوطنی میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں آئی تھی۔ وہ جب بھی میڈیا سے یا اپنے کسی چاہنے والے سے بات کرتے، تو ان کی زبان پر ہمیشہ پاکستان کی سلامتی اور ترقی کی ہی دعائیں ہوتیں۔
اگرچہ ریاستی سطح پر ان کا ذکر ایک شجرِ ممنوعہ بن چکا تھا، لیکن پاکستانی عوام کے دلوں میں ان کی محبت اور عقیدت کی جڑیں اس قدر گہری تھیں کہ ریاست کا کوئی بھی ہتھکنڈا انہیں قوم کے دلوں سے نہیں نکال سکا۔ جب بھی یومِ تکبیر آتا، عوام ان کی تصاویر اٹھا کر سڑکوں پر نکلتے اور انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے۔ لیکن سرکاری ٹی وی اور قومی نشریاتی اداروں پر ان کا نام لینے سے بھی گریز کیا جاتا۔ یہ ایک عجیب تضاد تھا کہ جس بم کے بل بوتے پر ملکی سلامتی کا سارا بیانیہ کھڑا تھا، اس بم کے خالق کو ہی تاریخ کے صفحات سے مٹانے کی ایک منظم مگر ناکام کوشش کی جا رہی تھی۔ ڈاکٹر خان اپنی نظربندی کے دوران اکثر اپنے ان پرانے ساتھیوں کو یاد کرتے جن کے ساتھ مل کر انہوں نے کہوٹہ کی پہاڑیوں میں ایک ناممکن کو ممکن بنایا تھا۔ ان کے دل میں ایک ہی کسک تھی کہ وہ جس آزاد اور خود مختار پاکستان کا خواب لے کر ہالینڈ سے واپس آئے تھے، کیا وہ خواب کبھی شرمندہِ تعبیر ہو پائے گا؟
سال 2021ء کا آغاز ان کے لیے مزید جسمانی تکالیف لے کر آیا۔ کورونا وائرس کی عالمی وبا نے جہاں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا، وہیں ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھی اس موذی مرض کا شکار ہو گئے۔ ان کی بگڑتی ہوئی حالت کے پیشِ نظر انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا، لیکن جس بے حسی کا مظاہرہ اس وقت کیا گیا، وہ تاریخ کا ایک اور تاریک باب ہے۔ ان کی بیماری کے دوران کسی اعلیٰ حکومتی شخصیت نے ان کی اس طرح عیادت نہ کی جس کے وہ حقدار تھے۔ وہ ہسپتال کے بستر پر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھے، لیکن ان کے آس پاس وہی سخت گیر سیکیورٹی کا پہرہ تھا جو انہیں اپنے آخری لمحات میں بھی آزاد نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ ان کی حالت دن بدن بگڑتی جا رہی تھی اور پھر وہ لمحہ آ پہنچا جس نے پوری قوم کو یتیم کر دیا۔ 10 اکتوبر 2021 کی صبحوہ عظیم دل ہمیشہ کے لیے دھڑکنا بند ہو گیا جس کی ہر دھڑکن پاکستان کے نام وقف تھی۔ محسنِ پاکستان، ڈاکٹر عبدالقدیر خان 85 برس کی عمر میں اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی وفات کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے ملک میں پھیل گئی اور ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پوری قوم آج ایک بار پھر یتیم ہو گئی ہو۔ ان کے چاہنے والے، جن میں عام شہری، طالب علم، اور وہ تمام لوگ شامل تھے جو ان کی خدمات کو دل سے مانتے تھے، شدید صدمے اور دکھ کی کیفیت میں تھے۔
ان کی نمازِ جنازہ اسلام آباد کی فیصل مسجد میں ادا کی جانی تھی۔ اس دن آسمان بھی اس عظیم انسان کی رخصتی پر رو رہا تھا اور اسلام آباد میں موسلادھار بارش ہو رہی تھی۔ لیکن اس شدید بارش اور خراب موسم کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں لوگ اپنے محسن کے آخری دیدار اور نمازِ جنازہ کے لیے امڈ آئے۔ یہ وہ سچے محبِ وطن تھے جو ریاستی پابندیوں اور کسی حکومتی ناراضگی کی پرواہ کیے بغیر اپنے ہیرو کو خراجِ تحسین پیش کرنے آئے تھے۔ لیکن اس موقع پر ریاستی سطح پر جو سلوک دیکھنے میں آیا، اس نے قوم کے دلوں میں موجود زخموں کو مزید گہرا کر دیا۔
جس شخص نے اس ملک کو کٹ مرنے اور تباہی سے بچایا تھا، اس کے جنازے میں نہ تو اس وقت کے وزیراعظم نے شرکت کی اور نہ ہی ریاستی اور عسکری قیادت کے اعلیٰ ترین عہدیدار وہاں نظر آئے۔ یہ تاریخ کی وہ بدترین بے حسی تھی جسے پاکستانی قوم آج تک نہیں بھلا سکی۔ ایک طرف لاکھوں عوام کے دل ٹوٹے ہوئے تھے اور وہ اپنے محسن کو رو رہے تھے، اور دوسری طرف اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے وہ لوگ تھے جن کے پاس اس شخص کے جنازے کو کندھا دینے کا بھی وقت نہیں تھا جس کے بنائے ہوئے ایٹم بم کی وجہ سے وہ آج تک محفوظ اور پرسکون نیند سوتے تھے۔ حکمرانوں کی اس غیر حاضری نے یہ ثابت کر دیا کہ محسنِ پاکستان سے ان کی بے رخی، فاصلہ اور عالمی دباؤ کا خوف ان کی موت کے بعد بھی ختم نہیں ہوا تھا۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اسلام آباد کے ایچ ایٹ قبرستان میں دفنایا گیا، لیکن ان کی اصل اور ہمیشہ زندہ رہنے والی قبر اس قوم کے دلوں میں بنی ہے۔ وہ ایک ایسی تاریخ رقم کر گئے ہیں جسے کوئی بھی وقتی حکمران یا عالمی طاقت مٹا نہیں سکتی۔ دنیا کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی، اس میں یہ بات سنہرے حروف میں درج ہو گی کہ بھوپال سے ہجرت کر کے آنے والے ایک نوجوان نے اپنے علم، اپنی حب الوطنی اور اپنے جنون سے ایک ایسی قوم کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا تھا جسے اس کے دشمن صفحہِ ہستی سے مٹانے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ ڈاکٹر خان نے ثابت کیا کہ جب انسان کا ارادہ پختہ ہو اور نیت خالص ہو، تو وہ تنِ تنہا پہاڑوں کا سینہ بھی چیر سکتا ہے اور عالمی طاقتوں کے غرور کو بھی خاک میں ملا سکتا ہے۔
آج وہ ہم میں نہیں ہیں، لیکن چاغی کے پہاڑوں کا وہ سفید رنگ، کہوٹہ کی زیرِ زمین تجربہ گاہوں میں گھومتی وہ مشینیں، اور وہ ایٹمی حصار جو آج بھی پاکستان کی سرحدوں کا محافظ ہے، ہمیشہ ان کی موجودگی کا احساس دلاتا رہے گا۔ ریاستیں اکثر اپنے محسنوں کو مصلحتوں کی بھینٹ چڑھا کر بھول جایا کرتی ہیں، لیکن قومیں اور تاریخ کبھی اپنے سچے ہیروز کو فراموش نہیں کرتیں۔ محسنِ پاکستان کا نام اس وقت تک زندہ اور تابندہ رہے گا جب تک اس زمین پر پاکستان قائم و دائم ہے۔


کتاب: ڈاکٹر اے کیو خان آن سائنس اینڈ ایجوکیشن (Dr. A.Q. Khan on Science and Education)
کتاب: دی اسلامک بمب (The Islamic Bomb) از اسٹیو وائس مین اور ہربرٹ کروسنی
ڈاکٹر خان کی وفات، جنازے کی کوریج اور ان کے لکھے گئے آخری خطوط کے اخباری تراشے (اکتوبر 2021)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *