:(IC 1101)کائنات کی سب سے بڑی کہکشاں

جس کے سامنے ہماری ملکی وے محض ریت کا ایک ذرہ ہے

مؤلف: طارق اقبال سوہدروی

جب ہم رات کے وقت آسمان کی طرف دیکھتے ہیں، تو ہمیں چمکتے ہوئے ستاروں کا ایک خوبصورت ہجوم نظر آتا ہے۔ یہ تمام ستارے ہماری کہکشاں کا حصہ ہیں جسے ہم “ملکی وے” (Milky Way) کہتے ہیں۔ ہماری ملکی وے کہکشاں اتنی بڑی ہے کہ روشنی کی شعاع—جو ایک سیکنڈ میں 3 لاکھ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتی ہے—اسے بھی اس کہکشاں کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچنے میں 1 لاکھ سال لگ جاتے ہیں۔ انسانی عقل کے لیے 1 لاکھ نوری سال کی اس وسعت کا تصور ہی ناممکن محسوس ہوتا ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ کائنات کے اس بے کراں سمندر میں ہماری یہ عظیم الشان ملکی وے محض ایک چھوٹے سے جزیرے، یا یوں کہیں کہ ریت کے ایک ذرے سے زیادہ کچھ نہیں؟ آج ہم آپ کو فلکیات کی تاریخ کی سب سے بڑی دریافت کی طرف لے جا رہے ہیں، ایک ایسی دیوہیکل کہکشاں جس کا سائز انسانی تصورات کی تمام حدیں توڑ دیتا ہے۔

جدید فلکیات دانوں نے ہماری زمین سے تقریباً 1 ارب نوری سال کے فاصلے پر ایک انتہائی پراسرار اور دیوہیکل کہکشاں دریافت کی ہے جسے سائنس کی زبان میں “IC 1101” کہا جاتا ہے۔ یہ کہکشاں کائنات کے ایک انتہائی گنجان حصے “Abell 2029” نامی کلسٹر کے عین مرکز میں واقع ہے۔

اس کہکشاں کی جسامت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اس کا قطر (Diameter) تقریباً 60 لاکھ نوری سال (6 Million Light-years) پر محیط ہے! اس کا مطلب ہے کہ یہ ہماری ملکی وے کہکشاں سے کم از کم 60 گنا زیادہ بڑی ہے۔ اگر ہم کائنات کے نقشے سے اپنی ملکی وے کو ہٹا کر اس کی جگہ IC 1101 کو رکھ دیں، تو یہ نہ صرف ہماری کہکشاں کی جگہ لے لے گی، بلکہ ہمارے پڑوس میں موجود اینڈرومیڈا (Andromeda) اور دیگر درجنوں چھوٹی بڑی کہکشاؤں کو بھی مکمل طور پر اپنے اندر نگل لے گی۔

اس سے بھی زیادہ حیران کن اس کہکشاں کے اندر موجود ستاروں کی تعداد ہے۔ ہماری ملکی وے میں تقریباً 100 سے 400 ارب ستارے موجود ہیں، جو کہ بذاتِ خود ایک بہت بڑا ہندسہ ہے۔ لیکن IC 1101 کے اندر ستاروں کی تعداد 100 ٹریلین (یعنی 100 کھرب) سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے! سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یہ کہکشاں شروع سے اتنی بڑی نہیں تھی، بلکہ اربوں سالوں کے دوران اس نے اپنے اردگرد موجود بے شمار چھوٹی کہکشاؤں کو اپنی زبردست کشش ثقل (Gravity) سے کھینچ کر آپس میں ٹکرا دیا اور انہیں اپنے اندر ضم کر لیا۔ اسی وجہ سے آج یہ کائنات کی سب سے بڑی اور روشن ترین کہکشاؤں میں شمار ہوتی ہے۔

یہ دیوہیکل کہکشائیں، ان میں موجود کھربوں ستارے اور اربوں نوری سالوں کے یہ ناقابلِ فہم فاصلے انسان کو اس کی مادی حیثیت کا احساس دلاتے ہیں۔ جب ہم کائنات کی اس ہیبت ناک وسعت پر غور کرتے ہیں، تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ یہ پورا کائناتی نظام کسی اندھے حادثے کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ ایک انتہائی قادر اور علیم ہستی کے حکم کے تابع ہے جس کی قدرت کی کوئی حد نہیں۔

قرآنِ مجید انسان کو کائنات کی اسی وسعت اور پھیلاؤ پر تفکر کی دعوت دیتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ (سورۃ الذاریات، آیت 47)

“اور آسمان کو ہم نے اپنی قوت (زور) سے بنایا ہے، اور یقیناً ہم ہی اسے وسعت دینے والے (پھیلانے والے) ہیں۔”

آج کی جدید فلکیات اور ہبل (Hubble) یا جیمز ویب جیسی دوربینیں جب اربوں نوری سال دور موجود IC 1101 جیسی کہکشاؤں کو دیکھتی ہیں، تو وہ دراصل کائنات کے اس مسلسل پھیلاؤ اور اس کی ناقابلِ تصور وسعت پر ہی سائنسی مہر ثبت کر رہی ہوتی ہیں۔ قرآنی الفاظ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کائنات کا یہ نقشہ جامد نہیں بلکہ اللہ کی قدرت سے مسلسل وسیع ہو رہا ہے۔ ان اربوں کھربوں ستاروں کے سامنے زمین پر بسنے والے انسان کا مادی وجود تو شاید کچھ بھی نہیں، لیکن اسی انسان کو اللہ نے وہ شعور عطا کیا ہے جو ان ستاروں کی روشنی کو پڑھ کر اپنے خالق کی عظمت کو پہچان سکتا ہے۔

یہ کائناتی عجائبات ہمارے لیے ایک کھلی دعوتِ فکر ہیں کہ ہم زمین کی چھوٹی چھوٹی الجھنوں اور غرور سے باہر نکل کر اس کائنات کے عظیم الشان توازن اور اس کے بنانے والے کی کامل حکمت پر غور کریں۔

حوالہ جات (References):

NASA (Hubble Space Telescope observations of Abell 2029 and IC 1101).

ESA – European Space Agency (Galaxy Cluster Dynamics and Sizes).

The Astrophysical Journal (Measurement of the dark matter and size of IC 1101).

National Geographic (The Universe’s Largest Known Galaxy).

Space dot com (IC 1101: The largest galaxy in the universe).

Britannica (Galactic Evolution and Giant Elliptical Galaxies).

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *