مدارج السالکین ۔ باب چہارم
﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾
مدارج السالکین کی روح اور بنیاد
مدارج السالکین کی تمام منازل دراصل اسی ایک آیت کی شرح ہیں۔
«” جو شخص اس آیت کو سمجھ لیتا ہے، وہ اس عظیم کتاب کے بنیادی پیغام کو بھی سمجھ لیتا ہے۔”»
—
باب کا مقصد
اس باب کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ امام ابن القیم رحمہ اللہ نے اپنی شہرۂ آفاق تصنیف “مدارج السالکین” کی بنیاد سورۂ فاتحہ کی آیت ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ پر کیوں رکھی۔
:اس باب کے مطالعے کے بعد قاری یہ سمجھ سکے گا کہ
– بندگی (عبودیت) انسان کی تخلیق کا اصل مقصد ہے۔
– اللہ تعالیٰ کی مدد اور توفیق کے بغیر بندگی کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔
– عبادت اور استعانت دراصل پورے دین کی بنیاد اور سالک کے روحانی سفر کا نقطۂ آغاز ہیں۔
– “مدارج السالکین” کی تمام آنے والی منازل اسی ایک آیت کی تفصیل اور عملی تفسیر ہیں۔
—
تمہید
ہر عظیم عمارت کی ایک مضبوط بنیاد ہوتی ہے، اور ہر کامیاب سفر کا ایک واضح نقطۂ آغاز۔
“مدارج السالکین” بھی ایک عظیم روحانی سفر ہے، لیکن اس کا آغاز کسی فلسفیانہ بحث، پیچیدہ اصطلاح یا محض ذوقی تجربات سے نہیں ہوتا، بلکہ قرآنِ کریم کی ایک ایسی آیت سے ہوتا ہے جسے ہر مسلمان دن میں کئی مرتبہ اپنی نماز میں پڑھتا ہے۔
:اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
«﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾»
«”ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔”»
(سورۃ الفاتحہ: 5)
یہ صرف نماز میں پڑھی جانے والی ایک آیت نہیں، بلکہ بندے اور اس کے رب کے درمیان ایک دائمی عہد ہے۔ اس میں بندہ اپنے رب کے سامنے اپنی بندگی کا اقرار بھی کرتا ہے اور اسی سے مدد و توفیق کا سوال بھی کرتا ہے۔
امام ابن القیم رحمہ اللہ نے اسی حقیقت کو اپنی پوری کتاب کا محور بنایا ہے، کیونکہ ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی طرف سفر کرنے والے ہر سالک کا آغاز بھی اسی مقام سے ہوتا ہے اور اس کی کامیابی بھی اسی پر موقوف ہے۔
—
بندے اور رب کے درمیان ایک مکالمہ
:رسول اللہ ﷺ نے ایک عظیم حدیثِ قدسی بیان فرمائی جس میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
««قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ…»»
“میں نے نماز (یعنی سورۂ فاتحہ) کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، اور میرے بندے کے لیے وہی ہے جو اس نے مانگا۔”
(صحیح مسلم)
:پھر جب بندہ یہ آیت پڑھتا ہے
«﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾»
:تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
««هَذَا بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ»»
“یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان مشترک ہے، اور میرے بندے کے لیے وہی ہے جس کا اس نے سوال کیا۔”
یہ حدیث اس حقیقت کو نہایت خوبصورتی سے واضح کرتی ہے کہ سورۂ فاتحہ صرف ایک دعا نہیں، بلکہ بندے اور اس کے رب کے درمیان ایک زندہ مکالمہ ہے۔ بندہ جب اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا جواب دیتا ہے، اور جب وہ اپنی بندگی اور استعانت کا اعلان کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس عہد کو قبول فرماتا ہے۔
اسی لیے امام ابن القیم رحمہ اللہ اس آیت کو محض ایک قرآنی آیت نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سفر کرنے والے ہر سالک کے روحانی سفر کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔
—
امام ابن القیم رحمہ اللہ نے اسی آیت کو کیوں منتخب کیا؟
یہ سوال نہایت اہم ہے، کیونکہ اسی کا جواب پوری “مدارج السالکین” کو سمجھنے کی کنجی ہے۔
:امام ابن القیم رحمہ اللہ کے نزدیک انسان کی پوری زندگی دو بنیادی حقیقتوں کے گرد گھومتی ہے
– وہ کس کی عبادت کرتا ہے؟
– اور کس پر بھروسا کرتا ہے؟
اگر ان دونوں سوالوں کا جواب درست ہو جائے تو انسان کی فکر، اس کا کردار، اس کے اعمال اور اس کا پورا طرزِ زندگی درست سمت اختیار کر لیتا ہے۔
اسی لیے انہوں نے اپنی پوری کتاب کی بنیاد اسی آیت پر رکھی، کیونکہ اس میں بندے کا مقصد بھی بیان ہو گیا اور اس مقصد تک پہنچنے کا راستہ بھی۔
چنانچہ “مدارج السالکین” کی تمام آنے والی منازل—توبہ، صبر، شکر، خوف، رجاء، محبت، توکل، رضا، اخلاص اور دیگر تمام روحانی مقامات—اسی ایک آیت کی مختلف جہات کی تشریح ہیں۔
—
ایک آیت، ایک مکمل نظامِ بندگی
:سورۂ فاتحہ کو “اُمُّ القرآن” کہا جاتا ہے، کیونکہ اس میں پورے قرآن کے بنیادی مضامین نہایت جامع انداز میں جمع ہو گئے ہیں۔ اور سورۂ فاتحہ کا قلب یہی آیت ہے
«﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾»
اس آیت کے دو مختصر جملوں میں بندے کی پوری زندگی کا نقشہ کھینچ دیا گیا ہے۔
إِيَّاكَ نَعْبُدُ﴾ بندے کے مقصدِ حیات کو متعین کرتی ہے؛ یعنی اس کی عبادت، محبت، اطاعت اور وفاداری صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہو۔)
اور
وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ اسے یہ تعلیم دیتی ہے کہ اس مقصد کو حاصل کرنے کی قوت، استقامت اور کامیابی بھی صرف اللہ تعالیٰ کی عطا سے ممکن ہے۔)
گویا اس آیت میں مقصد بھی بیان کر دیا گیا اور ذریعہ بھی؛ عبادت بھی سکھا دی گئی اور توکل بھی؛ اخلاص کی بنیاد بھی رکھ دی گئی اور توفیق کا سرچشمہ بھی بتا دیا گیا۔
یہی وجہ ہے کہ امام ابن القیم رحمہ اللہ نے اس آیت کو پوری کتاب کی روح اور بنیاد قرار دیا ہے۔
—
إِيَّاكَ نَعْبُدُ﴾ — بندگی کا عہد)
:اللہ تعالیٰ کی طرف سفر کرنے والے ہر سالک کا پہلا قدم اپنی منزل کا تعین کرنا ہے، اور اس منزل کا اعلان قرآنِ کریم نے ان الفاظ میں کیا ہے
«﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ﴾»
“ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔”
اس مختصر جملے میں بندے کی پوری زندگی سمٹ آئی ہے۔ یہ صرف نماز میں پڑھی جانے والی ایک عبارت نہیں، بلکہ ایک عہد، ایک اقرار اور ایک طرزِ زندگی ہے۔
:گویا بندہ اپنے رب سے عرض کرتا ہے
“اے میرے رب! میری عبادت، میری محبت، میری امید، میرا خوف، میری اطاعت، میری وفاداری اور میری زندگی کا ہر لمحہ صرف تیرے لیے ہے۔”
امام ابن القیم رحمہ اللہ کے نزدیک یہی خالص عبودیت انسان کی سب سے بڑی سعادت اور اس کی تخلیق کا اصل مقصد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اسی لیے پیدا فرمایا کہ وہ اپنے رب کو پہچانے، اس سے محبت کرے، اسی کی بندگی کرے اور اسی کی رضا کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لے۔
—
عبادت کا حقیقی مفہوم
بہت سے لوگ عبادت کو صرف نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج تک محدود سمجھتے ہیں، جبکہ امام ابن القیم رحمہ اللہ واضح کرتے ہیں کہ عبادت کا مفہوم اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔
:شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی جامع تعریف، جسے امام ابن القیم رحمہ اللہ نے بھی اپنے منہج میں اختیار کیا، یہ ہے
«”عبادت ہر اس ظاہر و باطن قول اور عمل کا نام ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے اور جس سے وہ راضی ہوتا ہے۔”»
اسی لیے نماز بھی عبادت ہے، سچ بولنا بھی عبادت ہے، عدل کرنا بھی عبادت ہے، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک بھی عبادت ہے، امانت ادا کرنا بھی عبادت ہے، حلال رزق کمانا بھی عبادت ہے، اور مخلوق کے ساتھ خیر خواہی بھی عبادت ہے، اگر ان سب کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہو۔
اس حقیقت کو سمجھ لینے کے بعد مؤمن کی پوری زندگی عبادت بن جاتی ہے۔
—
عبادت کی قبولیت کی دو بنیادیں
امام ابن القیم رحمہ اللہ بار بار اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ کوئی بھی عبادت اس وقت تک اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول نہیں ہوتی جب تک اس میں دو بنیادی شرطیں جمع نہ ہو جائیں۔
پہلی شرط: اخلاص
عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو، نہ کہ شہرت، تعریف یا دنیاوی مفاد کے لیے۔
دوسری شرط: اتباعِ رسول اللہ ﷺ
عبادت وہی ہو جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق ہو۔
:اسی لیے اہلِ علم نے کہا ہے
“اخلاص کے بغیر عمل قبول نہیں ہوتا، اور سنت کے بغیر عمل درست نہیں ہوتا۔”
یہ دونوں اصول پورے دین کی بنیاد ہیں اور امام ابن القیم رحمہ اللہ کی تمام تصانیف میں نمایاں نظر آتے ہیں۔
—
وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ — توفیق کا راز)
عبادت کا اعلان کرنے کے فوراً بعد بندہ عرض کرتا ہے:
«﴿وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾»
“اور ہم تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔”
یہ ترتیب خود ایک عظیم حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔
:گویا بندہ کہتا ہے
اے اللہ! میں تیری بندگی کا عزم تو رکھتا ہوں، لیکن تیری مدد کے بغیر اس پر قائم نہیں رہ سکتا۔ “
“میرے علم کو نافع، میرے عمل کو صالح، میرے دل کو مخلص اور میرے قدموں کو ثابت قدم رکھنے والا بھی تو ہی ہے۔
یہی استعانت کی حقیقت ہے۔
یہ صرف زبان سے مدد مانگنے کا نام نہیں، بلکہ دل کا مکمل اعتماد اللہ تعالیٰ پر قائم ہو جانا ہے۔
—
مقصد بھی، ذریعہ بھی
امام ابن القیم رحمہ اللہ اس آیت کی ایک نہایت لطیف تشریح کرتے ہیں۔
:وہ فرماتے ہیں کہ
إِيَّاكَ نَعْبُدُ﴾ میں بندے کا مقصد بیان ہوا ہے۔)
اور
وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ میں اس مقصد تک پہنچنے کا ذریعہ۔)
گویا اللہ تعالیٰ نے پہلے یہ واضح کیا کہ زندگی کا مقصد کیا ہے، پھر یہ بھی سکھا دیا کہ اس مقصد تک پہنچنے کی قوت کہاں سے حاصل ہوگی۔
یہی وہ توازن ہے جو ایک مؤمن کو نہ اپنی عبادت پر مغرور ہونے دیتا ہے اور نہ اپنی کمزوریوں سے مایوس ہونے دیتا ہے۔
وہ پوری محنت بھی کرتا ہے، اور ہر لمحہ اپنے رب سے مدد بھی مانگتا ہے۔
—
توحید کی جامع تصویر
یہ آیت توحید کی نہایت جامع تصویر پیش کرتی ہے۔
إِيَّاكَ نَعْبُدُ﴾ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ عبادت صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔)
اور
وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ حقیقی مدد، توفیق، بھروسا اور اعتماد بھی صرف اسی ذات پر ہونا چاہیے۔)
یہ دونوں حقیقتیں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتیں۔
جو شخص اپنی پیشانی صرف اللہ کے سامنے جھکاتا ہے، وہ اپنے دل کا سہارا بھی صرف اللہ تعالیٰ ہی کو بناتا ہے۔
اسی توازن کا نام کامل عبودیت ہے، اور یہی امام ابن القیم رحمہ اللہ کے نزدیک سلوک کی بنیاد ہے۔
—
سالک کے سفر کی پہلی بنیاد
اللہ تعالیٰ کی طرف سفر کرنے والا ہر سالک اسی مقام سے اپنے سفر کا آغاز کرتا ہے۔
وہ پہلے اپنے مقصد کی اصلاح کرتا ہے کہ میری عبادت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہوگی۔
پھر اپنے دل کی اصلاح کرتا ہے کہ میں ہر حال میں اپنے رب ہی سے مدد مانگوں گا، اسی پر بھروسا کروں گا اور اسی سے توفیق چاہوں گا۔
جب مقصد خالص ہو اور اعتماد بھی صحیح جگہ پر ہو تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے بندے کے لیے ہدایت کے دروازے کھول دیتا ہے۔
اسی بنیاد پر امام ابن القیم رحمہ اللہ “مدارج السالکین” کی پوری عمارت تعمیر کرتے ہیں، اور آنے والی تمام منازل اسی حقیقت کی عملی تربیت فراہم کرتی ہیں۔
—
قرآنی رہنمائی
امام ابن القیم رحمہ اللہ کی پوری گفتگو قرآنِ کریم کی تعلیمات سے ماخوذ ہے۔ سورۂ فاتحہ کی یہ عظیم آیت دراصل قرآن کے اس ہمہ گیر پیغام کا خلاصہ ہے کہ بندگی بھی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہو اور بھروسا بھی صرف اسی پر۔
:اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
«﴿فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ﴾»
“پس تم اسی کی عبادت کرو اور اسی پر بھروسا رکھو۔”
(سورۃ ہود: 123)
:ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا
«﴿وَعَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ﴾»
“اگر تم مؤمن ہو تو صرف اللہ ہی پر بھروسا کرو۔”
(سورۃ المائدہ: 23)
:اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
«﴿قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ﴾»
“کہہ دیجیے! بے شک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔”
(سورۃ الأنعام: 162-163)
یہ آیات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ مؤمن کی پوری زندگی عبادت، اخلاص اور توکل کا حسین امتزاج ہوتی ہے۔
—
نبوی رہنمائی
رسول اللہ ﷺ نے اپنی تعلیمات اور دعاؤں کے ذریعے امت کو بار بار یہی سبق دیا کہ بندہ اسباب اختیار کرے، مگر اپنے دل کا سہارا صرف اللہ تعالیٰ کو بنائے۔
:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
««احرص على ما ينفعك، واستعن بالله ولا تعجز.»»
“جو چیز تمہارے لیے فائدہ مند ہو، اس کے حصول کی کوشش کرو، اللہ سے مدد مانگو اور عاجز نہ بنو۔”
(صحیح مسلم: 2664)
:اسی طرح آپ ﷺ کی یہ جامع دعا بھی استعانت کی بہترین تعلیم دیتی ہے
««اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ»»
“اے اللہ! اپنے ذکر، اپنی نعمتوں کے شکر اور بہترین عبادت پر میری مدد فرما۔”
(سنن ابی داود: 1522، صحیح)
یہ دعا دراصل ﴿وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ کی عملی تفسیر ہے۔
—
اس باب کا حاصل
اس باب میں ہم نے جانا کہ امام ابن القیم رحمہ اللہ نے اپنی پوری کتاب کی بنیاد سورۂ فاتحہ کی ایک عظیم آیت پر رکھی ہے۔
﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ﴾ بندے کو اس کی منزل بتاتی ہے کہ اس کی عبادت، محبت، اطاعت اور زندگی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہو۔
اور
وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ اسے یہ سکھاتی ہے کہ اس منزل تک پہنچنے کی قوت بھی صرف اللہ تعالیٰ ہی عطا فرماتا ہے۔)
گویا ایک حصہ مقصد بیان کرتا ہے اور دوسرا اس مقصد تک پہنچنے کا راستہ۔
یہی دو حقیقتیں “مدارج السالکین” کی بنیاد اور سالک کے پورے روحانی سفر کا نقطۂ آغاز ہیں۔
—
فکر و محاسبہ
اس باب کے مطالعے کے بعد چند لمحے خاموشی سے اپنے دل کا جائزہ لیجیے۔
– کیا میری عبادت واقعی اللہ تعالیٰ کے لیے خالص ہے؟
– کیا میں نیکی پر قائم رہنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے توفیق مانگتا ہوں؟
– کیا میری نماز میں پڑھی جانے والی ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ میرے دل کی آواز بھی ہے؟
– کیا میری زندگی کا مرکز اللہ تعالیٰ کی رضا ہے، یا دنیا کی خواہشات؟
یہ سوالات دوسروں کے لیے نہیں، ہمارے اپنے نفس کے لیے ہیں۔ روحانی ترقی ہمیشہ خود احتسابی سے شروع ہوتی ہے۔
—
آج کا عملی عزم
آج سے ہر نماز میں سورۂ فاتحہ پڑھتے وقت اس آیت پر چند لمحے غور کیجیے۔
جب آپ ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ﴾ کہیں تو اپنے دل میں یہ عہد تازہ کیجیے کہ میری زندگی کا ہر عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہوگا۔
اور جب ﴿وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ پڑھیں تو پوری عاجزی کے ساتھ اپنے رب سے دعا کیجیے:
«”اے اللہ! میں تیری بندگی کرنا چاہتا ہوں، مگر تیری توفیق کے بغیر اس پر قائم نہیں رہ سکتا۔ مجھے ہر حال میں اپنی ہدایت، اپنی مدد اور اپنی رحمت نصیب فرما۔”»
اگر یہ آیت ہمارے دل میں زندہ ہو جائے تو ہماری نماز بدل جائے گی، ہماری نیتیں بدل جائیں گی، اور آہستہ آہستہ ہماری پوری زندگی بھی بدلنا شروع ہو جائے گی۔
—
اہم نکات (Key Takeaways)
:اس باب سے درج ذیل بنیادی اسباق حاصل ہوتے ہیں
-إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ پوری “مدارج السالکین” کی بنیاد ہے۔)
– عبودیت انسان کی تخلیق کا اصل مقصد ہے۔
– ہر عبادت کی قبولیت اخلاص اور سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی پر موقوف ہے۔
– بندگی اور استعانت ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتیں۔
– مؤمن اسباب اختیار کرتا ہے، لیکن اپنے دل کا اعتماد صرف اللہ تعالیٰ پر رکھتا ہے۔
– اللہ تعالیٰ کی طرف سفر کا آغاز خالص نیت اور اللہ پر کامل اعتماد سے ہوتا ہے۔
—
اختتامی کلمات
یہ آیت صرف سورۂ فاتحہ کا ایک حصہ نہیں، بلکہ ایک مؤمن کی پوری زندگی کا منشور ہے۔
امام ابن القیم رحمہ اللہ نے اسی لیے “مدارج السالکین” کی تمام منازل کو اسی آیت کے گرد ترتیب دیا، کیونکہ ان کے نزدیک بندگی کا ہر مقام اور سلوک کی ہر منزل اسی ایک حقیقت کی شرح ہے۔
اب، ان شاء اللہ، ہم اس مبارک سفر کی پہلی منزل میں داخل ہوں گے، جہاں بندہ اپنے ماضی کی لغزشوں سے رجوع کرتا ہے، اپنے رب کی طرف پلٹتا ہے، اور ایک نئی زندگی کا آغاز کرتا ہے۔
—
دعا
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں خالص عبادت، کامل اخلاص، سچا توکل، نافع علم اور صالح عمل کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے دلوں کو اپنی محبت سے آباد کرے، اور ہماری زندگی کو ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ کی عملی تفسیر بنا دے۔
آمین یا رب العالمین۔
—
