مادرِ ملت کا آخری سفر: قصرِ فاطمہ کی وہ سیاہ رات
قسط اول
مؤلف: طارق اقبال سوہدروی
جولائی انیس سو سڑسٹھ کی آٹھ اور نو درمیانی شب، کراچی کے ساحلوں پر اٹھنے والی ہوائیں کچھ عجیب سی سوگواری لیے ہوئے تھیں۔ موہٹا پیلس، جسے اب قصرِ فاطمہ کہا جاتا تھا، گہری تاریکی اور ایک پرہول خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا۔ یہ محض ایک عمارت نہیں تھی، بلکہ اس نوزائیدہ مملکت کی آخری امید کا مسکن تھا جس نے بانیِ پاکستان کے شانہ بشانہ چل کر اس ملک کی بنیادیں استوار کی تھیں۔ لیکن اس رات، اس محل کی دیواریں ایک ایسے اندوہناک راز کو اپنے سینے میں دفن کرنے والی تھیں جس کی بازگشت آج تک تاریخ کے ایوانوں میں سنائی دیتی ہے۔
محترمہ فاطمہ جناح، جنہیں قوم نے عقیدت سے ‘مادرِ ملت’ کا لقب دیا تھا، محض قائدِ اعظم کی ہمشیرہ نہیں تھیں، بلکہ وہ جمہوری اقدار کی ایک ایسی بے باک محافظ تھیں جن کے سامنے وقت کا طاقتور ترین آمر بھی لرز اٹھتا تھا۔ انیس سو پینسٹھ کے صدارتی انتخابات نے ثابت کر دیا تھا کہ عوام کے دلوں پر آج بھی جناح کے نام کی حکمرانی ہے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کے خلاف ان کی انتخابی مہم نے پورے ملک میں ایک ایسا طوفان برپا کر دیا تھا جس نے ریاستی مشینری کی چولیں ہلا کر رکھ دی تھیں۔
ایوب خان کے لیے وہ محض ایک سیاسی حریف نہیں بلکہ ایک ایسا مستقل خطرہ تھیں جو کسی بھی وقت ان کے آمرانہ اقتدار کا تختہ الٹ سکتا تھا۔ انتخابات میں ہونے والی بدترین دھاندلی، ریاستی وسائل کے بے دریغ استعمال اور بنیادی جمہوریتوں کے نام نہاد نظام نے اگرچہ ایوب خان کو اقتدار پر قابض تو رکھا، لیکن عوام کی نظروں میں اصل فاتح فاطمہ جناح ہی تھیں۔ انتخابات کے بعد انہوں نے خود کو موہٹا پیلس کی چار دیواری تک محدود ضرور کر لیا تھا، لیکن ان کی خاموشی بھی حکمرانوں کے لیے ایک گرجدار للکار سے کم نہ تھی۔
وہ جولائی کی ایک حبس زدہ شام تھی جب محترمہ فاطمہ جناح ایک قریبی عزیز کی شادی کی تقریب میں شرکت کے بعد واپس قصرِ فاطمہ لوٹیں۔ ان کے چہرے پر معمول کی سنجیدگی اور وقار طاری تھا۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد وہ ہمیشہ کی طرح اپنے مطالعے کے کمرے میں گئیں اور کچھ دیر کتابوں اور کاغذات میں گم رہنے کے بعد اپنی خوابگاہ کی طرف چل پڑیں۔ موہٹا پیلس کا عملہ، جن میں ان کا پرانا اور وفادار خادم امیر بخش بھی شامل تھا، اپنے معمول کے کاموں سے فارغ ہو کر سونے کی تیاری کر رہا تھا۔
محترمہ کی یہ پرانی عادت تھی کہ وہ رات کو سونے سے پہلے اپنے کمرے کے دروازے اور کھڑکیاں اندر سے مضبوطی سے بند کر لیا کرتی تھیں۔ اس رات بھی انہوں نے ایسا ہی کیا اور پھر خوابگاہ کی بتیاں بجھا دی گئیں۔ یہ ان کی زندگی کی آخری رات تھی، ایک ایسی رات جس کے بعد انہیں دوبارہ کبھی جاگنا نصیب نہیں ہوا۔ صبح سویرے، جب سورج کی کرنیں موہٹا پیلس کے وسیع و عریض لان میں پھیلنا شروع ہوئیں، تو ایک پراسرار اور نامانوس سی بے چینی فضا میں رچی ہوئی تھی۔
صبح کے سات بج چکے تھے، اور یہ محترمہ فاطمہ جناح کے جاگنے کا معمول کا وقت تھا۔ ان کا خادم امیر بخش چائے کی ٹرے لیے ان کے کمرے کے دروازے پر کھڑا تھا، لیکن اندر سے کوئی آہٹ نہیں آ رہی تھی۔ اس نے ہلکی سی دستک دی، پھر کچھ دیر انتظار کیا اور دوبارہ دستک دی۔ جب کافی دیر تک اندر سے کوئی جواب نہ ملا تو اس کی حیرت پریشانی میں بدلنے لگی۔ محترمہ کبھی بھی اس قدر تاخیر سے بیدار نہیں ہوتی تھیں، اور نہ ہی ان کی نیند اتنی گہری تھی کہ وہ دستک کی آواز نہ سن سکیں۔
پریشانی کے عالم میں امیر بخش نے دروازے کو زور زور سے کھٹکھٹانا شروع کر دیا، اور پھر اس نے موہٹا پیلس کے دیگر ملازمین کو بھی بلا لیا۔ سب مل کر دروازہ کھولنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن وہ اندر سے مضبوطی سے بند تھا۔ کوئی چارہ نہ پا کر، انہوں نے محترمہ کے ایک قریبی رشتہ دار کو مطلع کیا اور پھر ایک کھڑکی کے شیشے توڑ کر دروازے کی چٹخنی کھولی گئی۔ جب وہ لوگ دھڑکتے دلوں کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئے، تو سامنے کا منظر دیکھ کر ان کے قدموں تلے سے زمین نکل گئی۔
مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح اپنے بستر پر بے حس و حرکت پڑی تھیں۔ ان کا جسم سرد ہو چکا تھا اور چہرے پر ایک عجیب سی زردی چھائی ہوئی تھی۔ ابتدائی طور پر تو یوں لگا جیسے وہ پرسکون نیند میں ہوں، لیکن قریب جانے پر حالات کی سنگینی کا احساس ہوا۔ کمرے کی فضا میں ایک عجیب سی بوجھل پن اور اداسی چھائی ہوئی تھی، جیسے رات کی تاریکی میں کوئی انتہائی ہولناک واقعہ رونما ہوا ہو۔ ملازمین کی چیخ و پکار نے موہٹا پیلس کی دیواروں کو ہلا کر رکھ دیا، اور یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح شہر میں پھیلنے لگی۔
لیکن اس کے فوراً بعد جو کچھ ہوا، وہ کسی معمول کی موت کے بعد ہونے والے ردعمل سے بالکل مختلف تھا۔ سب سے پہلے، قصرِ فاطمہ کے تمام ٹیلی فون کنکشن کاٹ دیے گئے تاکہ یہ خبر فوری طور پر ملک کے دیگر حصوں تک نہ پہنچ سکے۔ پولیس اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے آناً فاناً موہٹا پیلس کو گھیرے میں لے لیا اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ یہاں تک کہ ان کے قریبی سیاسی رفقاء اور دوستوں کو بھی دروازے پر ہی روک لیا گیا۔
سرکاری طور پر یہ اعلان کیا گیا کہ محترمہ فاطمہ جناح حرکتِ قلب بند ہونے کے باعث طبعی موت کا شکار ہو گئی ہیں۔ لیکن جو لوگ اس صبح ان کے کمرے تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے، ان کی آنکھوں نے کچھ اور ہی بھیانک مناظر دیکھے تھے۔ پاکستان کے سابق وزیراعظم حسین شہید سہروردی کے قریبی ساتھی اور ممتاز مسلم لیگی رہنما ایم اے ایچ اصفہانی جب وہاں پہنچے تو انہیں محترمہ کے چہرے اور گردن پر کچھ ایسے نشانات نظر آئے جو کسی طبعی موت کی غمازی نہیں کر رہے تھے۔
اس سے بھی زیادہ دل دہلا دینے والا انکشاف ان خواتین نے کیا جنہیں مادرِ ملت کو غسل دینے کی سعادت نصیب ہوئی۔ غسل دینے والی خواتین میں لیڈی ہدایت اللہ اور بیگم ہاشم رضا شامل تھیں۔ جب انہوں نے محترمہ کے جسم کو غسل کے لیے تیار کیا تو ان پر ایک لرزہ خیز حقیقت آشکار ہوئی۔ مادرِ ملت کے جسم پر خون کے واضح نشانات موجود تھے۔ ان کی گردن اور پیٹ کے حصے پر زخموں کے نشان تھے اور ان کا وہ لباس جو انہوں نے رات کو پہن رکھا تھا، وہ خون آلود تھا۔
ان چشم دید گواہوں کے بیانات نے اس سرکاری بیانیے کی دھجیاں اڑا دیں کہ محترمہ فاطمہ جناح کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی ہے۔ اگر یہ محض ایک طبعی موت تھی تو ان کے جسم پر خون کے نشانات کیسے آئے؟ ان کے بستر کی چادروں پر جو خون کے دھبے پائے گئے، ان کی کیا توجیہہ پیش کی جا سکتی تھی؟ سرکاری حکام نے انتہائی عجلت میں اور نہایت پراسرار طریقے سے ان تمام شواہد کو چھپانے کی کوشش کی جس سے یہ شک مزید گہرا ہو گیا کہ یہ ایک سوچی سمجھی اور انتہائی سفاکانہ سیاسی واردات تھی۔
تدفین کے معاملات بھی اس قدر جلد بازی اور ریاستی دباؤ کے تحت طے کیے جا رہے تھے کہ عوام کے شکوک و شبہات میں لمحہ بہ لمحہ اضافہ ہو رہا تھا۔ ایوب خان کی حکومت کی پوری کوشش تھی کہ جنازے میں عوام کی شرکت کو محدود کیا جائے، لیکن عوام کا سمندر تھا جو مادرِ ملت کے آخری دیدار کے لیے امڈ آیا تھا۔ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا، جو ایک مردہ رہنما سے خوف کی بدترین مثال تھی۔
لاکھوں کا ہجوم اور ریاستی جبر، یہ ایک عجیب متضاد منظر تھا جو کراچی کی سڑکوں پر اس روز دیکھا جا رہا تھا۔ ایک طرف وہ لوگ تھے جو اپنے بانی کی ہمشیرہ کو نم آنکھوں سے الوداع کہنا چاہتے تھے، اور دوسری طرف پولیس کے مسلح دستے تھے جو ان پر اندھا دھند لاٹھیاں برسا رہے تھے۔ اسی دوران، بعض بااثر شخصیات اور محترمہ کے قریبی عزیزوں نے مطالبہ کیا کہ تدفین سے قبل ان کا باقاعدہ پوسٹ مارٹم کیا جائے تاکہ موت کے اصل اسباب کا تعین ہو سکے۔ یہ مطالبہ اس قدر شدت اختیار کر گیا تھا کہ اعلیٰ حکومتی ایوانوں میں کھلبلی مچ گئی۔ ایوب خان کی انتظامیہ کسی صورت نہیں چاہتی تھی کہ پوسٹ مارٹم ہو، کیونکہ اس سے وہ تمام بھیانک سچائیاں منظر عام پر آ جاتیں جن پر پردہ ڈالنے کے لیے پوری ریاستی مشینری کو متحرک کر دیا گیا تھا۔ اس دباؤ کو کچلنے کے لیے حکام نے نہایت مکاری سے خاندانی روایات اور اسلامی اصولوں کا سہارا لیا اور یہ پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ ایک عظیم خاتون کی لاش کی یوں بے حرمتیکرنا کسی طور پر بھی مناسب نہیں اور اس سے ان کے عظیم مرتبے کو ٹھیس پہنچے گی۔ حکومتی اہلکاروں نے نہایت چابکدستی سے اس جذباتی اور روایتی دلیل کو استعمال کر کے پوسٹ مارٹم کے مطالبے کو دبا دیا، اور اس طرح وہ واحد سائنسی اور قانونی راستہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا جو موت کی اصل وجہ تک پہنچنے میں مدد دے سکتا تھا۔ ریاستی مشینری کی اس عجلت نے عوام کے ذہنوں میں ایک ایسا گہرا سوالیہ نشان چھوڑ دیا جس کا جواب آج تک کسی سرکاری تفتیشی رپورٹ میں نہیں مل سکا۔
مادرِ ملت کی نمازِ جنازہ پولو گراؤنڈ میں ادا کی گئی جہاں لاکھوں کا مجمع ان کے آخری دیدار کے لیے بے تاب تھا۔ اس موقع پر بھی پولیس اور سوگوار ہجوم کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جنہیں تاریخ میں ایک انتہائی شرمناک باب کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ہوائی فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کے درمیان، ایک شدید افراتفری کے عالم میں ان کا جسدِ خاکی مزارِ قائد کے احاطے میں لایا گیا جہاں انہیں ان کے عظیم بھائی کے پہلو میں ہمیشہ کے لیے سپردِ خاک کر دیا گیا۔ اس طرح پاکستان کی جمہوری تاریخ کی ایک انتہائی توانا آواز کو منوں مٹی تلے خاموش کر دیا گیا۔
لیکن موت کے بعد بھی ان کی پراسرار ہلاکت کی گونج کم نہ ہو سکی۔ تدفین کے چند دن بعد ہی ایسے ہوشربا انکشافات سامنے آنا شروع ہوئے جنہوں نے ایوب حکومت کی بنیادیں ہلا دیں۔ بعض آزاد ذرائع اور ان کے قریبی رفقاء نے یہ دعویٰ کیا کہ محترمہ کے گلے پر کسی تیز دھار آلے کا نشان موجود تھا اور ان کی موت گلا گھونٹنے یا کسی قاتلانہ حملے کا نتیجہ تھی۔ یہ بھی کہا گیا کہ ان کے کمرے کی چابیاں جو ہمیشہ رات کو ان کے سرہانے ہوتی تھیں، وہ صبح غائب تھیں اور کچھ انتہائی اہم دستاویزات بھی ان کے مطالعے کے کمرے سے غائب کر دی گئی تھیں۔
کیا واقعی موہٹا پیلس کی ان اونچی دیواروں کو پھلانگ کر کوئی بیرونی قاتل اندر داخل ہوا تھا؟ اور اگر ایسا تھا، تو اس رات وہاں موجود پولیس کا پہرہ اور سیکیورٹی اہلکار کہاں تھے؟ ایک نظریہ یہ بھی گردش کرتا رہا کہ اس قتل کے پیچھے ان کے اپنے ہی عملے کے کسی فرد کو استعمال کیا گیا تھا جسے بعد میں منظر سے غائب کر دیا گیا یا خاموش رہنے کی بھاری قیمت ادا کی گئی۔ وہ خون آلود کپڑے اور بستر کی چادریں جن پر قتل کے واضح شواہد موجود تھے، انہیں اتنی پراسرار عجلت میں کیوں دھویا اور تلف کر دیا گیا؟
انیس سو اکہتر میں جب یحییٰ خان کی حکومت تھی اور بعد ازاں جب ذوالفقار علی بھٹو اقتدار میں آئے، تو مادرِ ملت کی موت کی تحقیقات کا مطالبہ کئی بار پارلیمنٹ اور عوامی حلقوں میں پوری شدت سے گونجا۔ بعض لوگوں کا اصرار تھا کہ ان کی قبر کشائی کر کے باقاعدہ فرانزک تحقیقات کی جائیں، لیکن ہر بار کسی نہ کسی نامعلوم مصلحت یا پوشیدہ دباؤ کے تحت اس حساس معاملے کو دبا دیا گیا۔ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے لوگ شاید اس سچائی سے اس قدر خوفزدہ تھے کہ وہ تاریخ کے ان مردہ اوراق کو دوبارہ پلٹنے کی ہمت نہیں کر سکے۔
آج، کئی دہائیاں گزرنے کے بعد بھی، قصرِ فاطمہ کی وہ رات پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا تاریک باب ہے جس کے حقائق پر مصلحتوں کے دبیز پردے پڑے ہوئے ہیں۔ محترمہ فاطمہ جناح محض ایک فرد نہیں تھیں، وہ بانیِ پاکستان کے جمہوری نظریات کی آخری امین تھیں۔ ان کی موت نے نہ صرف ایک توانا سیاسی آواز کو خاموش کیا، بلکہ اس نے ملک میں آمرانہ رویوں کو ایک ایسی کھلی چھٹی دے دی جس کا خمیازہ اس قوم نے بعد میں سقوطِ ڈھاکہ اور طویل مارشل لاء کی صورت میں بھگتا۔
کیا مادرِ ملت کو ان کی بے باکی اور جمہوری جدوجہد کی سزا دی گئی تھی؟ کیا ان کے خون کے وہ دھبے جو غسل دینے والی خواتین نے دیکھے تھے، محض ان کا وہم تھا یا اس نوزائیدہ مملکت کے ماتھے پر لگا وہ کلنک کا ٹیکہ تھا جسے تاریخ کبھی مٹا نہیں سکے گی؟ موہٹا پیلس کی خاموش دیواریں آج بھی ان سوالوں کے جواب کی منتظر ہیں، مگر افسوس کہ سچائی جاننے والے یا تو خود منوں مٹی تلے جا سوئے یا پھر انہوں نے اپنے ہونٹوں پر مصلحت کی ایسی مہر لگا لی جو کبھی ٹوٹ نہ سکی۔
مادرِ ملت کی وفات کے بعد ان کے ذاتی معالج اور غسل دینے والی خواتین کو کن دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا؟ اور وہ کون سی انتہائی حساس دستاویزات تھیں جو موت کی رات ان کے کمرے سے غائب کی گئیں؟ قصرِ فاطمہ کے اندرونی رازوں سے پردہ اٹھنے کا وقت آ گیا ہے۔
۱۔ مادرِ ملت کا پراسرار قتل از ایم اے ایچ اصفہانی کے بیانات و دستاویزات
۲۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے گمشدہ اوراق، عقیل عباس جعفری کی تحقیقات
۳۔ مائی برادر (My Brother) از فاطمہ جناح اور اس کے حواشی
