مدارج السالکین ۔ باب سوم
مدارج السالکین کی تالیف کا پس منظر

“منازل السائرین” سے “مدارج السالکین” تک

باب کا مقصد

کسی عظیم کتاب کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے صرف اس کے متن کا مطالعہ کافی نہیں ہوتا، بلکہ اس کے پس منظر، اس کے مقصد اور اس کے مصنف کے منہج کو جاننا بھی ضروری ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس باب میں ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ “مدارج السالکین” کیوں لکھی گئی، اس کی علمی بنیاد کیا ہے، اور اس کا تعلق امام ابو اسماعیل عبداللہ بن محمد الانصاری الہروی رحمہ اللہ کی شہرۂ آفاق تصنیف “منازل السائرین” سے کس نوعیت کا ہے۔ یہ تعارف قاری کو آئندہ آنے والی تمام منازلِ سلوک کو ان کے صحیح علمی اور تربیتی تناظر میں سمجھنے میں مدد دے گا۔

ہر عظیم کتاب کے پیچھے ایک عظیم مقصد ہوتا ہے

کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو صرف پڑھی نہیں جاتیں، بلکہ نسلوں کی فکر تشکیل دیتی ہیں۔ “مدارج السالکین” بھی انہی نادر کتابوں میں سے ایک ہے۔ لیکن ہر شاہکار کے پیچھے ایک داستان ہوتی ہے۔ یہ کتاب کیسے وجود میں آئی؟ اس کے مصنف نے اسے کیوں لکھا؟ اور “منازل السائرین” سے اس کا کیا تعلق ہے؟ ان سوالات کا جواب جانے بغیر “مدارج السالکین” کی اصل عظمت کو پوری طرح سمجھنا ممکن نہیں۔

اسلامی تاریخ کی عظیم کتابیں محض علمی ذخیرے میں اضافہ کرنے کے لیے نہیں لکھی گئیں، بلکہ وہ اپنے دور کی فکری، روحانی اور اصلاحی ضرورتوں کا جواب تھیں۔ بعض نے عقیدے کی حفاظت کی، بعض نے حدیث و فقہ کی خدمت کی، اور بعض نے انسان کے دل کو زندہ کرنے اور اسے اپنے رب سے جوڑنے کا فریضہ انجام دیا۔

“مدارج السالکین” بھی اسی قبیل کی ایک عظیم تصنیف ہے۔ یہ صرف تصوف، اخلاق یا تزکیۂ نفس پر لکھی گئی کتاب نہیں، بلکہ ایک ایسے بندۂ مؤمن کی رہنمائی کرتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا، اس کی محبت اور اس کے قرب کا طالب ہو۔ امام ابن القیم رحمہ اللہ نے اس کتاب میں واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا راستہ نہ محض جذبات سے متعین ہوتا ہے، نہ رسوم و روایات سے، اور نہ ہی مجرد فلسفیانہ بحثوں سے؛ بلکہ اس کی مضبوط بنیاد قرآنِ کریم، سنتِ رسول اللہ ﷺ اور سلفِ صالحین کے فہم پر قائم ہے۔

امام ابو اسماعیل ہروی رحمہ اللہ

“مدارج السالکین” کو سمجھنے کے لیے اس کتاب کو جاننا ضروری ہے جس نے اس کی بنیاد فراہم کی۔

امام ابو اسماعیل عبداللہ بن محمد الانصاری الہروی رحمہ اللہ پانچویں صدی ہجری کے جلیل القدر محدث، واعظ، مفسر اور اہلِ سلوک کے ممتاز امام تھے۔ زہد، عبادت، سنت کی پابندی اور اصلاحِ باطن آپ کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے۔ آپ کی مجالسِ وعظ نے بے شمار لوگوں کے دلوں میں ایمان کی حرارت پیدا کی، اور آپ کی علمی خدمات کو اہلِ علم نے ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا۔

آپ کی مشہور ترین تصنیف “منازل السائرین إلى الحق سبحانه” ہے، جو روحانی تربیت کے موضوع پر لکھی گئی اسلامی لٹریچر کی اہم ترین کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کتاب نے صدیوں تک اہلِ علم، اہلِ دعوت اور طالبانِ سلوک کی رہنمائی کی، اور بعد کے بے شمار علماء نے اس سے استفادہ کیا۔

امام ابن القیم رحمہ اللہ نے بھی امام ہروی رحمہ اللہ کے علم، تقویٰ اور اخلاص کا برملا اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے متعدد مقامات پر ان کے بلند علمی مقام کا ذکر کیا، اگرچہ بعض تعبیرات کے بارے میں علمی انداز میں گفتگو بھی کی، مگر ہمیشہ ادب، احترام اور انصاف کے ساتھ۔

“منازل السائرین” کیا ہے؟

“منازل السائرین” ایک مختصر مگر نہایت عمیق کتاب ہے، جس میں امام ہروی رحمہ اللہ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سفر کرنے والے بندے کی روحانی تربیت کو سو منازل میں تقسیم کیا ہے۔

توبہ، ورع، زہد، صبر، شکر، توکل، محبت، رضا اور توحید جیسی منازل دراصل بندۂ مؤمن کے باطنی سفر کے مختلف مراحل ہیں۔ ہر منزل انسان کو اپنے نفس کی اصلاح، ایمان کی پختگی اور اللہ تعالیٰ کے مزید قرب کی طرف لے جاتی ہے۔

کتاب کا اسلوب انتہائی جامع اور اختصار پر مبنی ہے۔ یہی اس کی عظمت بھی ہے اور یہی اس کی دشواری بھی، کیونکہ بہت سے مقامات پر چند الفاظ میں ایسے معانی سمو دیے گئے ہیں جن کی مکمل تفہیم کے لیے شرح اور توضیح ناگزیر محسوس ہوتی ہے۔

امام ابن القیم رحمہ اللہ نے “مدارج السالکین” کیوں لکھی؟

امام ابن القیم رحمہ اللہ نے “منازل السائرین” کا نہایت گہرائی سے مطالعہ کیا اور اس سے بھرپور استفادہ کیا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ یہ کتاب تزکیۂ نفس اور سلوک کے باب میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، لیکن اس کے بعض مقامات مزید وضاحت کے متقاضی ہیں۔

چنانچہ انہوں نے اس کی شرح لکھنے کا ارادہ فرمایا۔ لیکن ان کا مقصد صرف ایک مختصر متن کی تشریح کرنا نہیں تھا، بلکہ انہوں نے قرآنِ کریم، سنتِ رسول اللہ ﷺ، آثارِ صحابہ و سلف اور گہرے علمی استدلال کی روشنی میں اعمالِ قلب، تزکیۂ نفس اور سلوک کی ایسی جامع تشریح پیش کی کہ “مدارج السالکین” اپنی مستقل علمی شناخت اختیار کر گئی۔

جہاں امام ہروی رحمہ اللہ کی آراء سے اتفاق کیا، وہاں ان کی بصیرت کی تعریف کی؛ اور جہاں کسی تعبیر میں وضاحت یا اصلاح کی ضرورت محسوس کی، وہاں نہایت ادب، علمی دیانت اور مضبوط دلائل کے ساتھ اپنا موقف پیش کیا۔ یہی اہلِ علم کا منہج ہے، اور یہی اس کتاب کی علمی عظمت کا ایک روشن پہلو بھی ہے۔

مدارج السالکین کی انفرادیت

اگرچہ “مدارج السالکین” کی بنیاد “منازل السائرین” ہے، لیکن حقیقت میں یہ اس سے کہیں بڑھ کر ایک مستقل قرآنی، حدیثی اور تربیتی شاہکار ہے۔ اس میں امام ابن القیم رحمہ اللہ نے دل کے اعمال کو دین کے مرکز میں رکھا، عبادت اور سلوک کو قرآن و سنت کے تابع کیا، اور واضح کیا کہ ایمان کی اصل خوبصورتی ظاہری اعمال کے ساتھ ساتھ باطن کی اصلاح میں بھی مضمر ہے۔

یہ کتاب قاری کو صرف معلومات فراہم نہیں کرتی، بلکہ اس کے دل کی تربیت کرتی ہے، اس کی سوچ کو درست کرتی ہے، اور اسے قدم بہ قدم اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھنے کا راستہ دکھاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدیوں گزرنے کے باوجود اس کی تازگی، تاثیر اور افادیت آج بھی برقرار ہے۔

“منزل” کا حقیقی مفہوم

“مدارج السالکین” میں بار بار “منزل” کا لفظ آئے گا۔

یہاں “منزل” سے مراد کوئی جغرافیائی مقام نہیں، بلکہ بندۂ مؤمن کے روحانی سفر کا ایک مرحلہ ہے۔

جس طرح ایک مسافر اپنی منزلِ مقصود تک پہنچنے کے لیے ایک ایک پڑاؤ طے کرتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کا طالب بھی توبہ، صبر، شکر، توکل، محبت، اخلاص اور رضا جیسی منازل سے گزرتے ہوئے اپنے رب کے قرب کی طرف بڑھتا ہے۔ ہر منزل دل کی ایک نئی کیفیت، ایمان کی ایک نئی ترقی اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کی ایک نئی مضبوطی کا نام ہے۔

باب کا اختتام

اب تک ہم اس عظیم کتاب کے پس منظر، اس کے مصنف اور اس کے مقصد کو سمجھ چکے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس کے قلب میں داخل ہوں۔

آئندہ باب سے ہم اس عظیم آیت کا مطالعہ کریں گے جسے امام ابن القیم رحمہ اللہ نے پوری کتاب کی بنیاد بنایا:

﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾

یہی وہ آیت ہے جہاں بندگی کا سفر شروع ہوتا ہے، اور یہی وہ نور ہے جو سالک کو منزل بہ منزل اپنے رب کی رضا اور قرب کی طرف لے جاتا ہے۔

(باب سوم مکمل) 

(جاری ہے) 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *