بسم اللہ الرحمن الرحیم
مدارج السالکین ۔ باب ششم
منزلِ محاسبہ (المحاسبة)
اپنے نفس کا احتساب — اصلاحِ باطن اور قربِ الٰہی کی شاہراہ
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ﴾ِِ
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل (آخرت) کے لیے کیا آگے بھیجا ہے۔”
” اور اللہ سے ڈرتے رہو، یقیناً اللہ تمہارے اعمال سے پوری طرح باخبر ہے۔
(سورۃ الحشر: 18)
—
باب کا مقصد
گزشتہ باب میں ہم نے منزلِ توبہ کا مطالعہ کیا۔ ہم نے جانا کہ توبہ محض گناہوں پر ندامت کا نام نہیں، بلکہ اپنے رب کی طرف سچے دل سے پلٹ آنے کا نام ہے۔
:لیکن ایک اہم سوال باقی رہ جاتا ہے
آخر توبہ کے بعد انسان اپنے آپ کو دوبارہ لغزشوں سے کیسے بچائے؟
امام ابن القیم رحمہ اللہ اسی سوال کا جواب “محاسبہ” کی صورت میں دیتے ہیں۔
ان کے نزدیک توبہ، روحانی سفر کا دروازہ ہے، جبکہ محاسبہ اس دروازے کی حفاظت ہے۔ توبہ انسان کو گناہ سے نکالتی ہے، اور محاسبہ اسے دوبارہ گناہ کی طرف لوٹنے سے بچاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سلف صالحین اپنے اعمال سے زیادہ اپنے دلوں کی نگرانی کرتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اگر دل بگڑ جائے تو اعمال کی عمارت بھی زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔
اس باب کا مقصد یہ ہے کہ ہم محاسبہ کی حقیقت، اس کی شرعی حیثیت، اس کے عملی طریقے اور اس کے روحانی اثرات کو قرآن، سنت اور امام ابن القیم رحمہ اللہ کی بصیرت افروز تشریحات کی روشنی میں سمجھیں، تاکہ خود احتسابی ہماری زندگی کا مستقل مزاج بن جائے۔
—
تمہید
انسان کی فطرت عجیب ہے۔
وہ کاروبار کا حساب رکھتا ہے، بینک کھاتوں کی تفصیل محفوظ رکھتا ہے، اپنے منافع اور نقصان پر گہری نظر رکھتا ہے، لیکن اکثر اپنے دل کی کیفیت، اپنی نیتوں کی پاکیزگی اور اپنے اعمال کے انجام سے غافل رہتا ہے۔
وہ دوسروں کی غلطیاں جلد دیکھ لیتا ہے، مگر اپنی کوتاہیوں پر اس کی نگاہ کم ہی جاتی ہے۔
حالانکہ ایک دن ایسا آنے والا ہے جب نہ دولت کام آئے گی، نہ عہدہ، نہ شہرت اور نہ ہی دنیا کی کوئی کامیابی۔ اس دن انسان سے صرف یہ پوچھا جائے گا کہ وہ اپنے رب کے سامنے کیا لے کر حاضر ہوا۔
:اسی لیے قرآنِ کریم دنیا میں رہتے ہوئے انسان کو اپنے آپ سے سوال کرنے کی دعوت دیتا ہے
میں کون ہوں؟
میں کس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہوں؟
آج میں نے اپنے رب کی رضا کے لیے کیا کیا؟
اور اگر آج میری زندگی کا آخری دن ہو، تو کیا میں اپنے رب سے ملاقات کے لیے تیار ہوں؟
یہی سوالات محاسبہ کی بنیاد ہیں۔
محاسبہ انسان کو مایوس نہیں کرتا، بلکہ اسے بیدار کرتا ہے۔ یہ انسان کو احساسِ جرم میں مبتلا نہیں کرتا، بلکہ اصلاحِ نفس کی راہ دکھاتا ہے۔ یہ خود کو کمتر سمجھنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے نفس کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق سنوارنے کا مسلسل عمل ہے۔
اسی لیے امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے دنیا میں اپنے نفس کا محاسبہ کر لیا، اس کے لیے آخرت کا حساب نسبتاً آسان ہو جاتا ہے، اور جو اپنے نفس سے غافل رہا، اس کی غفلت ہی اس کی سب سے بڑی مصیبت بن جاتی ہے۔
—
توبہ اور محاسبہ — ایک دوسرے کا لازمی رشتہ
امام ابن القیم رحمہ اللہ کے منہج میں توبہ اور محاسبہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔
توبہ انسان کے ماضی کی اصلاح کرتی ہے، جبکہ محاسبہ اس کے حال کی نگرانی کرتا ہے اور مستقبل کو محفوظ بناتا ہے۔
اگر توبہ کے بعد محاسبہ نہ ہو تو نفس دوبارہ اپنی پرانی خواہشات کی طرف لوٹ سکتا ہے۔ اور اگر محاسبہ ہو مگر توبہ نہ ہو تو انسان اپنی غلطیوں کو پہچان تو لے گا، مگر ان سے نجات حاصل نہیں کر سکے گا۔
گویا توبہ دل کو پاک کرتی ہے، اور محاسبہ اس پاکیزگی کی حفاظت کرتا ہے۔
یہ دونوں مل کر سالک کے روحانی سفر کو استقامت عطا کرتے ہیں۔
—
امام ابو اسماعیل الہروی رحمہ اللہ کے نزدیک محاسبہ
امام ابو اسماعیل الہروی رحمہ اللہ “منازل السائرین” میں محاسبہ کو سالک کی بنیادی منازل میں شمار کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک محاسبہ یہ ہے کہ بندہ اپنے ہر قول، ہر عمل، ہر نیت اور ہر لمحے کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے پیمانے پر پرکھے۔
وہ دیکھے کہ اس نے کہاں اطاعت کی، کہاں غفلت برتی، کہاں اس کے نفس نے اسے دھوکا دیا، اور کہاں وہ اپنے رب کے حق میں کوتاہی کا مرتکب ہوا۔
یہ مسلسل بیداری ہی محاسبہ کی روح ہے۔
—
امام ابن القیم رحمہ اللہ کی نظر میں محاسبہ
امام ابن القیم رحمہ اللہ محاسبہ کی حقیقت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بندے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے نفس کے ساتھ اسی طرح حساب کرے جیسے ایک شریک اپنے شریک سے حساب لیتا ہے، کیونکہ نفس اگر بے نگرانی چھوڑ دیا جائے تو انسان کو ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے۔
اسی مفہوم کو بیان کرتے ہوئے وہ فرماتے ہیں کہ محاسبہ کا مقصد نفس کی مذمت برائے مذمت نہیں، بلکہ اس کی اصلاح اور تزکیہ ہے۔
:مؤمن ہر روز اپنے دل سے سوال کرتا ہے
کیا میری نیت خالص تھی؟
کیا میرے عمل سنت کے مطابق تھے؟
کیا میرے کسی قول یا رویے سے اللہ تعالیٰ ناراض تو نہیں ہوا؟
کیا آج میں کل سے بہتر مسلمان بنا ہوں؟
یہ سوالات ایک زندہ دل انسان کی علامت ہیں۔
امام ابن القیم رحمہ اللہ واضح کرتے ہیں کہ نفس کو مسلسل نگرانی کی ضرورت ہے، کیونکہ وہ کبھی خواہشات کی طرف کھینچتا ہے، کبھی غفلت کی طرف، اور کبھی خود پسندی کی طرف۔ جو شخص اپنے نفس کو بے لگام چھوڑ دیتا ہے، وہ آہستہ آہستہ گناہوں کو معمولی سمجھنے لگتا ہے، یہاں تک کہ اس کا دل سخت ہو جاتا ہے۔
اس کے برعکس، محاسبہ دل کو زندہ رکھتا ہے، ایمان کو تازہ کرتا ہے اور انسان کو ہر روز اپنے رب کے مزید قریب لے جاتا ہے۔
—
محاسبہ کی حقیقت
امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نفس انسان کا سب سے قریبی ساتھی بھی ہے اور سب سے بڑا آزمائش کا میدان بھی۔ اگر اس کی تربیت کی جائے تو یہی نفس انسان کو اللہ تعالیٰ کے قرب تک پہنچا دیتا ہے، اور اگر اسے خواہشات کے سپرد کر دیا جائے تو یہی اسے ہلاکت کے راستے پر لے جاتا ہے۔
اسی لیے محاسبہ صرف گناہوں کا حساب رکھنے کا نام نہیں، بلکہ دل کی نگرانی، نیت کی اصلاح اور کردار کی تعمیر کا مسلسل عمل ہے۔
:مؤمن ہر روز اپنے آپ سے یہ سوال کرتا ہے
آج میرے رب کا مجھ پر کیا حق تھا، اور میں نے اس میں کتنی وفاداری دکھائی؟
یہی سوال روحانی ترقی کا نقطۂ آغاز ہے۔
—
محاسبہ کے تین مراحل
امام ابن القیم رحمہ اللہ کی تشریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ محاسبہ صرف عمل کے بعد نہیں، بلکہ زندگی کے ہر مرحلے میں ہونا چاہیے۔
1۔ عمل سے پہلے محاسبہ
ہر عمل سے پہلے انسان اپنی نیت کا جائزہ لے۔
:وہ خود سے پوچھے
– کیا میں یہ کام اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کر رہا ہوں؟
– کیا اس میں ریا، شہرت یا دنیاوی مفاد کی آمیزش تو نہیں؟
– کیا یہ عمل قرآن و سنت کے مطابق ہے؟
اگر نیت درست نہ ہو تو بظاہر بڑا عمل بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں قبولیت سے محروم رہ سکتا ہے۔
—
2۔ عمل کے دوران محاسبہ
عمل شروع ہو جائے تو بھی دل کی نگرانی ختم نہیں ہوتی۔
:انسان دیکھتا رہے
– کیا میرا اخلاص برقرار ہے؟
– کیا میرے اندر عاجزی باقی ہے؟
– کیا میں اللہ تعالیٰ کی حدود کا خیال رکھ رہا ہوں؟
بہت سے اعمال ابتدا میں خالص ہوتے ہیں، لیکن راستے میں تعریف، شہرت یا خود پسندی انہیں کمزور کر دیتی ہے۔
اسی لیے اہلِ ایمان اپنے دل کی حفاظت بھی کرتے ہیں اور اپنے اعمال کی بھی۔
—
3۔ عمل کے بعد محاسبہ
عمل مکمل ہونے کے بعد مؤمن اپنے آپ سے سوال کرتا ہے:
– کیا میں نے یہ عمل اللہ تعالیٰ کے لیے کیا تھا؟
– کیا اس میں سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی تھی؟
– کیا اس میں کوئی کمی یا کوتاہی رہ گئی؟
– کیا میں نے اس نیکی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا؟
یہی محاسبہ انسان کو غرور سے بچاتا ہے۔
وہ اپنی نیکیوں پر فخر نہیں کرتا بلکہ اللہ تعالیٰ سے ان کی قبولیت کی دعا کرتا ہے۔
—
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی حکیمانہ نصیحت
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:
«”اپنا حساب خود لے لو، قبل اس کے کہ تمہارا حساب لیا جائے، اور اپنے آپ کو (اعمال کے لیے) تول لو، قبل اس کے کہ تمہیں تولا جائے۔”»
یہ صرف ایک نصیحت نہیں بلکہ پوری اسلامی تربیت کا خلاصہ ہے۔
جو شخص دنیا میں خود اپنے نفس کا منصف بن جاتا ہے، اسے قیامت کے دن اپنے اعمال پر شرمندگی کم اٹھانی پڑتی ہے۔
لیکن جو ہر وقت دوسروں کا احتساب کرتا رہے اور خود کو بھول جائے، وہ اپنے سب سے بڑے نقصان سے بے خبر رہتا ہے۔
—
نفس کو بے لگام چھوڑنے کا انجام
امام ابن القیم رحمہ اللہ بار بار متنبہ کرتے ہیں کہ نفس کو اگر خواہشات کے حوالے کر دیا جائے تو وہ آہستہ آہستہ انسان کے ایمان کو کمزور کر دیتا ہے۔
ابتدا ایک چھوٹی سی غفلت سے ہوتی ہے۔
پھر گناہ معمولی محسوس ہونے لگتے ہیں۔
پھر توبہ میں تاخیر ہونے لگتی ہے۔
اور آخرکار دل پر غفلت کی ایسی تہہ جم جاتی ہے کہ انسان کو اپنی بیماری کا احساس بھی نہیں رہتا۔
:اسی لیے قرآنِ کریم نے فرمایا
«﴿وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ﴾»
“خواہشِ نفس کی پیروی نہ کرو، ورنہ وہ تمہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دے گی۔”
(سورۃ ص: 26)
یہ آیت بتاتی ہے کہ انسان کا سب سے بڑا دشمن ہمیشہ باہر نہیں ہوتا، بلکہ اکثر اس کے اپنے نفس کے اندر موجود ہوتا ہے۔
—
محاسبہ اور تقویٰ
قرآنِ کریم نے محاسبہ کو تقویٰ کے ساتھ جوڑا ہے۔
:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
«﴿اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ﴾»
غور کیجیے، پہلے تقویٰ کا حکم دیا، پھر محاسبہ کا۔
گویا تقویٰ صرف ایک احساس یا دعویٰ نہیں، بلکہ روزانہ اپنے اعمال کا جائزہ لینے کا نام ہے۔
جو شخص ہر روز اپنے نفس سے سوال کرتا ہے، وہ گناہوں سے زیادہ محتاط، عبادت میں زیادہ مخلص اور معاملات میں زیادہ دیانت دار ہو جاتا ہے۔
—
محاسبہ کے ثمرات
محاسبہ صرف غلطیاں تلاش کرنے کا عمل نہیں بلکہ شخصیت سازی کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔
:اس کے نتیجے میں
– ایمان تازہ رہتا ہے۔
– نیت خالص ہوتی جاتی ہے۔
– عبادت میں خشوع پیدا ہوتا ہے۔
– تکبر کی جگہ عاجزی آتی ہے۔
– دوسروں کی عیب جوئی کم ہوتی ہے۔
– اپنے نفس کی اصلاح کی فکر بڑھتی ہے۔
– توبہ زندہ رہتی ہے۔
– اور انسان ہر دن اپنے رب کے زیادہ قریب ہو جاتا ہے۔
یہی وہ تبدیلی ہے جسے امام ابن القیم رحمہ اللہ “تزکیۂ نفس” کی حقیقی علامت قرار دیتے ہیں۔
—
قرآن و سنت کی روشنی میں محاسبہ
محاسبہ کسی صوفیانہ اصطلاح یا محض اخلاقی نصیحت کا نام نہیں، بلکہ یہ قرآن و سنت کی بنیادی تعلیمات میں سے ہے۔ قرآنِ کریم انسان کو بار بار اپنے اعمال، نیتوں اور انجام پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
«﴿بَلِ الْإِنسَانُ عَلَىٰ نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ وَلَوْ أَلْقَىٰ مَعَاذِيرَهُ﴾»
“بلکہ انسان خود اپنے آپ کو خوب جانتا ہے، خواہ وہ کتنے ہی عذر پیش کرے۔”
(سورۃ القیامۃ: 14-15)
یہ آیت بتاتی ہے کہ انسان اپنے باطن کی حقیقت سے واقف ہوتا ہے۔ وہ دنیا کے سامنے جواز پیش کر سکتا ہے، لیکن اپنے ضمیر اور اپنے رب سے کوئی حقیقت پوشیدہ نہیں رکھ سکتا۔ یہی احساس محاسبہ کی بنیاد ہے۔
:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
««الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ، وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا وَتَمَنَّى عَلَى اللَّهِ الْأَمَانِيَّ»»
،دانا شخص وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے”
” جبکہ عاجز وہ ہے جو اپنے نفس کی خواہشات کے پیچھے چلتا رہے اور اللہ تعالیٰ سے بے بنیاد امیدیں وابستہ رکھے۔
اگرچہ محدثین نے اس روایت کی سند پر کلام کیا ہے، تاہم اس کا مفہوم قرآن و سنت کی عمومی تعلیمات کے عین مطابق ہے، اور اہلِ علم نے اسے وعظ و تربیت کے باب میں ذکر کیا ہے۔
—
روزانہ کا محاسبہ — ایک عملی طریقہ
امام ابن القیم رحمہ اللہ کی تعلیمات کا مقصد محض نظری گفتگو نہیں بلکہ عملی اصلاح ہے۔ اس لیے ہر مؤمن کو چاہیے کہ دن کے اختتام پر چند لمحے تنہائی میں بیٹھ کر اپنے نفس کا جائزہ لے۔
:اپنے آپ سے یہ سوالات کیجیے
– کیا آج میری نمازیں وقت پر اور خشوع کے ساتھ ادا ہوئیں؟
– کیا آج میں نے قرآنِ کریم سے اپنا تعلق مضبوط کیا؟
– کیا میری زبان کسی غیبت، جھوٹ یا سخت کلامی سے محفوظ رہی؟
– کیا میری نگاہیں اللہ تعالیٰ کی حدود کے اندر رہیں؟
– کیا میں نے والدین، اہلِ خانہ اور لوگوں کے حقوق ادا کیے؟
– کیا میری کمائی، معاملات اور وعدے دیانت داری کے مطابق تھے؟
– کیا آج میں نے کسی پر ظلم کیا یا کسی کا دل دکھایا؟
– کیا آج میری نیت ہر عمل میں اللہ تعالیٰ کی رضا تھی؟
– اگر آج میری زندگی کا آخری دن ہوتا، تو کیا میں اپنے رب سے ملاقات کے لیے مطمئن ہوتا؟
یہ سوالات انسان کو مایوس کرنے کے لیے نہیں، بلکہ ہر دن پہلے سے بہتر بنانے کے لیے ہیں۔
—
محاسبہ اور امید
بعض لوگ محاسبہ کو صرف اپنی کمزوریوں میں ڈوب جانے کا نام سمجھتے ہیں، حالانکہ اسلام کا تصورِ محاسبہ امید سے بھرپور ہے۔
سچا مؤمن جب اپنی غلطی دیکھتا ہے تو مایوس نہیں ہوتا، بلکہ فوراً اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ جس رب نے توبہ کا دروازہ کھولا ہے، وہ اصلاح کا راستہ بھی آسان کرتا ہے۔
:اسی لیے محاسبہ ہمیشہ دو پروں کے ساتھ آگے بڑھتا ہے
خوف — کہ کہیں میں اپنے رب کو ناراض نہ کر بیٹھوں۔
امید — کہ اگر میں سچے دل سے پلٹ آؤں تو میرا رب مجھے ضرور قبول فرمائے گا۔
یہی توازن بندے کو استقامت عطا کرتا ہے۔
—
فکر و محاسبہ
اب چند لمحوں کے لیے اپنے دل کے ساتھ تنہائی اختیار کیجیے۔
:اپنے آپ سے پوچھیے
– میری زندگی کا وہ کون سا گناہ ہے جسے میں معمولی سمجھ کر نظر انداز کر رہا ہوں؟
– کون سی نیکی ہے جس میں اخلاص پیدا کرنے کی ضرورت ہے؟
– میری کون سی عادت مجھے اللہ تعالیٰ سے دور کر رہی ہے؟
– کیا میں دوسروں کی اصلاح میں زیادہ مشغول ہوں یا اپنی؟
– اگر آج میرا نامۂ اعمال بند ہو جائے تو کیا میں اپنے رب کے حضور شرمندہ ہوں گا یا مطمئن؟
یہ سوالات صرف سوچنے کے لیے نہیں، بلکہ زندگی بدلنے کے لیے ہیں۔
—
آج کا عملی عزم
آج سے اپنے دن کا اختتام پانچ منٹ کے محاسبے سے کیجیے۔
ایک ڈائری یا نوٹ بک مخصوص کریں۔
:ہر رات صرف تین باتیں لکھیں
– آج کی ایک نیکی جس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ہے۔
– آج کی ایک لغزش جس پر فوراً استغفار کرنا ہے۔
– کل کی ایک اصلاح جس کا عملی عزم کرنا ہے۔
اگر یہ معمول مستقل بن جائے تو چند ماہ بعد انسان خود اپنے اندر واضح روحانی تبدیلی محسوس کرے گا۔
—
اس باب کا خلاصہ
محاسبہ، توبہ کی حفاظت اور استقامت کا نام ہے۔
یہ انسان کو دوسروں کی غلطیاں گنوانے کے بجائے اپنی اصلاح کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ سچا محاسبہ نفس کو توڑتا نہیں بلکہ سنوارتا ہے، مایوس نہیں کرتا بلکہ امید دلاتا ہے، اور غرور پیدا نہیں کرتا بلکہ عاجزی سکھاتا ہے۔
امام ابن القیم رحمہ اللہ ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سفر کرنے والا سالک ہر دن اپنے دل، اپنی نیت، اپنے اعمال اور اپنے اخلاق کا جائزہ لیتا ہے۔ یہی مسلسل خود احتسابی اس کے ایمان کو زندہ، اس کی توبہ کو تازہ اور اس کے قدموں کو صراطِ مستقیم پر ثابت رکھتی ہے۔
جو شخص دنیا میں اپنے نفس کا انصاف کرتا ہے، وہ آخرت کے حساب کے لیے بہتر طور پر تیار ہوتا ہے۔ اور جو اپنے عیبوں کو پہچان لیتا ہے، وہی حقیقی اصلاح کی منزل کی طرف بڑھتا ہے۔
—
اگلی منزل کی طرف
توبہ نے ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف واپس لوٹنا سکھایا، اور محاسبہ نے ہمیں اپنے نفس کی نگرانی کا شعور عطا کیا۔
اب سالک کا دل مزید بیدار ہو چکا ہے۔ وہ صرف اپنی کوتاہیوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں، کائنات کی نشانیوں اور وحی کے پیغامات میں غور و فکر بھی کرنے لگتا ہے۔
:اسی لیے امام ابن القیم رحمہ اللہ اب ہمیں ایک ایسی منزل کی طرف لے جاتے ہیں جو معرفتِ الٰہی کے دروازے کھولتی ہے
منزلِ تفکر (التفكر)
کیونکہ جس دل میں تفکر زندہ ہو جائے، اس کے ایمان میں گہرائی، عبادت میں لذت اور زندگی میں بصیرت پیدا ہو جاتی ہے۔
—
اختتامی دعا
!اے اللہ
تو ہمارے دلوں کے ہر راز کو جاننے والا ہے۔ ہمیں اپنے نفس کے عیب دیکھنے کی بصیرت عطا فرما، اور انہیں دور کرنے کی توفیق بھی عطا فرما۔
اے رب العالمین! ہمارے محاسبے کو ہمارے لیے رحمت بنا، زحمت نہ بنا۔ ہمیں اپنی لغزشوں پر سچی ندامت، اپنی نعمتوں پر کامل شکر، اور اپنی اطاعت پر استقامت عطا فرما۔
اے اللہ! ہمارے دلوں کو ریا، تکبر، غفلت اور خواہشِ نفس کی غلامی سے پاک فرما۔ ہمیں ان بندوں میں شامل فرما جو ہر دن اپنے آپ کو تیری رضا کے مطابق سنوارتے ہیں، اور جن کا خاتمہ ایمان، اخلاص اور تیری رضا پر ہوتا ہے۔
اے ہمارے رب! جب ہم تیرے حضور حاضر ہوں تو ہمارا حساب آسان فرما، ہماری لغزشوں سے درگزر فرما، اور اپنے فضل و کرم سے ہمیں جنت الفردوس میں اپنے نیک بندوں کے ساتھ جگہ عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین۔
