وہ اصول جو سوشل میڈیا نہیں بتاتا

آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک نعرہ ہر طرف گونج رہا ہے؟ “جو سوچو گے وہی پاؤ گے۔” “اپنی خواہش کا تصور باندھو، کائنات خود بخود تمہاری جھولی بھر دے گی۔” یہ جملے سننے میں میٹھے لگتے ہیں، دل کو ایک وقتی سکون بھی دیتے ہیں، مگر ان کے اندر ایک خاموش دھوکہ چھپا ہوتا ہے۔ یہ دھوکہ یہ ہے کہ سوچ کو عمل کا نعم البدل بنا دیا جائے، خواہش کو دعا کی جگہ بٹھا دیا جائے، اور تصور کو کردار کے تخت پر بٹھا دیا جائے۔ یہیں سے وہ راستہ شروع ہوتا ہے جو دیکھنے میں روشن مگر چلنے میں کھوکھلا ثابت ہوتا ہے۔

آپ کا دین آپ کو یہ نہیں سکھاتا کہ صرف سوچ لو اور مل جائے گا۔ آپ کا دین آپ سے مانگتا ہے کہ نیت کو درست کرو، دعا کو زبان پر لاؤ، کوشش کو حلال رکھو، عادتوں کو بدلو، دل کو اپنے رب سے جوڑو، صبر اور شکر کا دامن تھامے رکھو، اور پھر نتیجہ اسی ذات کے سپرد کر دو جو حکمتوں والی ہے۔ یہی وہ حقیقی اصول ہے جسے ہم ہم آہنگی کا اصول کہہ سکتے ہیں — یعنی آپ کا دل، آپ کی نیت، آپ کی دعا، آپ کا عمل اور آپ کا توکل، سب ایک ہی سمت میں چلنے لگیں۔

ذرا سوچیے، ایک نوجوان روز دعا کرتا ہے کہ اے اللہ مجھے اچھا رزق عطا فرما۔ یہ دعا خود میں بہت خوبصورت ہے۔ مگر وہی نوجوان اگر اپنا سارا دن موبائل کی سکرین پر ضائع کر دے، کوئی ہنر نہ سیکھے، اپنی محنت میں تسلسل پیدا نہ کرے، اور پھر شکوہ کرے کہ میری دعا قبول کیوں نہیں ہوتی، تو یہاں مسئلہ اللہ کی رحمت میں نہیں بلکہ اس کی اپنی زندگی کے بے ترتیب پن میں ہے۔ دعا موجود ہے مگر عمل غائب ہے۔ خواب دیکھا جا رہا ہے مگر اس خواب کی طرف کوئی قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔

یہاں کوئی یہ سوچ سکتا ہے کہ پھر دعا کا فائدہ ہی کیا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے تو خود فرمایا: وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (سورۃ البقرہ، آیت 186)، یعنی جب میرے بندے تجھ سے میرے بارے میں سوال کریں تو بے شک میں قریب ہوں، پکارنے والے کی پکار کو قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارے۔ آپ اس آیت کو غور سے پڑھیں تو تضاد نہیں بلکہ تکمیل نظر آئے گی۔ اللہ کی قربت اور دعا کی قبولیت میں کوئی شک نہیں، مگر قبولیت کی شکل، وقت اور راستہ اسی حکمت کے تابع ہے جو انسان کی اپنی کوشش اور نیت سے جڑی ہوئی ہے۔ دعا رد نہیں ہوتی، مگر جس دعا کے ساتھ عمل نہ ہو، اس کا نتیجہ اکثر تاخیر یا کسی اور صورت میں سامنے آتا ہے۔

قرآن نے اس حقیقت کو مزید واضح انداز میں بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ (سورۃ الرعد، آیت 11)، یعنی بے شک اللہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے نفسوں کی حالت کو نہ بدل لیں۔ آپ اس آیت میں ایک گہرا سبق پائیں گے۔ تبدیلی باہر سے کبھی نہیں آتی، وہ ہمیشہ اندر سے پھوٹتی ہے۔ دل کی نیت بدلے، سوچ کا رخ بدلے، عادتیں بدلیں، تب کہیں جا کر حالات کے دروازے بھی کھلتے ہیں۔

اسی طرح ارشاد ہوتا ہے: وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ (سورۃ النجم، آیت 39)، یعنی انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی وہ خود کوشش کرے۔ آپ اسے یوں سمجھیے کہ اسلام محض خواہشات کا دین نہیں، یہ نیت، کوشش، دعا، صبر اور توکل کا ایک مکمل اور متوازن نظام ہے۔ اور جب کوشش اور نیت درست ہو جائیں تو پھر معاملہ اللہ پر چھوڑنے کا حکم بھی خود قرآن دیتا ہے: فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ (سورۃ آلِ عمران، آیت 159)، یعنی جب تو کسی کام کا پختہ ارادہ کر لے تو اللہ پر بھروسہ کر، بے شک اللہ توکل کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ آپ دیکھیں کہ یہاں ترتیب کتنی واضح ہے، پہلے عزم اور پھر توکل، پہلے قدم اور پھر بھروسہ۔

ایک صحابی نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ کیا میں اپنے اونٹ کو باندھ کر توکل کروں یا کھلا چھوڑ کر؟ آپ ﷺ نے جواب دیا کہ اسے باندھو، پھر توکل کرو۔ یہ روایت امام ترمذی نے اپنی سنن، کتاب صفۃ القیامۃ میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے (حدیث نمبر 2517)، اور امام ترمذی نے اسے حسن غریب قرار دیا ہے۔ آپ ذرا اس ایک جملے کی گہرائی میں اتریے۔ اونٹ بھی باندھو اور دل بھی اللہ سے جوڑو۔ دوا بھی لو اور دعا بھی کرو۔ محنت بھی کرو اور بھروسہ بھی رکھو۔ یہی وہ توازن ہے جسے دین نے آپ کے لیے پسند کیا ہے۔ اور جو شخص واقعی اللہ پر توکل کرتا ہے، اس کے لیے خوشخبری ہے: وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ (سورۃ الطلاق، آیت 3)، یعنی جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہی اس کے لیے کافی ہے۔ آپ یہاں دیکھیں کہ یہ کافی ہونا اسی وقت مکمل ہوتا ہے جب کوشش بھی حلال اور مکمل ہو، کیونکہ توکل بے عملی کا نام نہیں بلکہ عمل کے بعد اطمینان کا نام ہے۔

آپ غور کریں تو زندگی کا ہر شعبہ اسی اصول کا محتاج ہے۔ آپ سکون چاہتے ہیں مگر رات دیر تک سکرین پر دوسروں کی زندگیوں کا موازنہ کرتے رہتے ہیں، نیند قربان کرتے ہیں، ذکر سے دور رہتے ہیں، تو پھر سکون کیسے اترے گا؟ اللہ تعالیٰ نے سکون کا راستہ خود بتا دیا ہے: الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (سورۃ الرعد، آیت 28)، یعنی جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں، سن لو، اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ آپ اگر سکون کی تلاش میں ہیں تو یہی وہ کنجی ہے جسے قرآن نے خود آپ کے ہاتھ میں تھما دیا ہے۔

آپ رشتے میں محبت چاہتے ہیں مگر لہجہ طنز سے بھرا رکھتے ہیں، پرانی باتیں بار بار دہراتے ہیں، خاموشی کو ہتھیار بناتے ہیں، تو محبت کیسے پروان چڑھے گی؟ آپ اعتماد چاہتے ہیں مگر ہر روز اپنا موازنہ دوسروں کے حسن، رزق اور مقام سے کرتے رہتے ہیں، تو اعتماد کہاں سے جنم لے گا؟ دعا اپنی جگہ سچی ہو سکتی ہے، مگر جب رویہ اس دعا کے برعکس ہو، تو اندر ایک مسلسل جنگ چھڑی رہتی ہے۔ ایسی الجھی ہوئی کیفیتوں میں، جہاں لہجہ سنبھالنا اور نفس پر قابو رکھنا مشکل ہو جائے، وہاں اللہ نے خود دو سہارے تھما دیے ہیں: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ (سورۃ البقرہ، آیت 153)، یعنی اے ایمان والو، صبر اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ جب لہجہ تلخ ہونے کو ہو تو یہی صبر اور یہی نماز وہ لگام ہیں جو دل کو واپس اپنی سمت میں موڑ دیتی ہیں۔

یہاں یہ بات بھی سمجھ لیجیے کہ محض “میں کامیاب ہوں، میں مضبوط ہوں” جیسے جملے دہرانے سے دل کی کیفیت نہیں بدلتی۔ آپ کا باطن الفاظ کو نہیں دیکھتا، وہ آپ کے روزمرہ کے انداز کو دیکھتا ہے۔ آپ کس ماحول میں سانس لیتے ہیں، کن باتوں سے متاثر ہوتے ہیں، ناکامی کے بعد کیسا رویہ اپناتے ہیں، یہ سب مل کر آپ کے باطن کی تربیت کرتے ہیں۔ اس لیے محض زبانی خوش فہمی نہیں بلکہ نیت، عادت، جذباتی سکون، حدود اور مسلسل عمل، سب کو ملانا پڑتا ہے۔ اور جب آپ اس راستے پر تسلسل سے چلتے ہیں تو اللہ کا وعدہ بھی واضح ہے: لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ (سورۃ ابراہیم، آیت 7)، یعنی اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں ضرور زیادہ دوں گا۔ آپ جتنا اپنی موجودہ نعمتوں پر شکر کریں گے، اتنا ہی برکت کا دروازہ کھلتا چلا جائے گا۔

آپ اگر آج ہی اپنی زندگی کا جائزہ لینا چاہیں تو ایک سوال اپنے دل سے پوچھیے: میری کون سی عادت میری دعا کے خلاف چل رہی ہے؟ میں سکون مانگتا ہوں مگر راتیں فضول کاموں میں گزارتا ہوں۔ میں رزق میں برکت مانگتا ہوں مگر اپنی صلاحیت پر محنت نہیں کرتا۔ میں اچھا رشتہ مانگتا ہوں مگر اپنا لہجہ نرم نہیں کرتا۔ میں اللہ کا قرب مانگتا ہوں مگر نماز کو تاخیر میں ڈالتا ہوں۔ آپ کو پوری زندگی ایک دن میں نہیں بدلنی، بس آج ایک عادت چن لیجیے اور اس میں ایک چھوٹا قدم اٹھا لیجیے۔

اور اگر آپ برسوں سے کوشش میں لگے ہیں اور نتیجہ ابھی تک سامنے نہیں آیا، تو خود کو ناکام مت سمجھیے۔ کبھی اللہ نعمت دینے سے پہلے آپ کا ظرف بناتا ہے، کبھی راستہ کھولنے سے پہلے آپ کے دل کو مضبوط کرتا ہے، اور کبھی تاخیر کے ذریعے آپ کو کسی نقصان سے بچا لیتا ہے۔ ہر دیر محرومی نہیں ہوتی، بعض اوقات وہی دیر رحمت کا پردہ ہوتی ہے۔

اصل کامیابی یہ نہیں کہ آپ کو ہر خواہش مل جائے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ آپ کا دل اپنے رب سے جڑا رہے، آپ کی نیت پاک رہے، آپ کا عمل حلال رہے، اور آپ کا دل ہر حال میں یہ کہہ سکے کہ اے اللہ، جو تو میرے لیے بہتر جانے، میں اسی پر راضی ہوں۔ یہی سکون ہے، یہی برکت ہے، اور یہی وہ حقیقی راز ہے جسے سوشل میڈیا کے نعرے کبھی نہیں سمجھا سکتے۔

آج سے صرف خواہش مت کیجیے، اپنے آپ کو بدلیے۔ صرف سوچیے مت، عمل کیجیے۔ صرف مانگیے مت، خود کو اس مانگے ہوئے کے لائق بنائیے۔ کیونکہ جب آپ کا باطن درست سمت میں مڑ جاتا ہے، تو اللہ باہر کے راستے بھی اپنی حکمت سے کھول دیتا ہے۔

اے اللہ، ہمارے دلوں کو اپنی محبت کے ساتھ جوڑ دے، ہماری نیتوں کو پاک کر دے، ہمارے اعمال کو حلال اور بابرکت بنا دے، اور ہمیں صبر، شکر اور سچے توکل کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *