مدارج السالکین ۔ باب دوم
امام ابن القیم رحمہ اللہ
وہ شخصیت جس نے علم کو عمل، اور عمل کو اخلاص سے جوڑ دیا
باب کا مقصد
کسی عظیم کتاب کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے اس کے مصنف کی شخصیت، فکر اور منہج سے واقف ہونا ضروری ہوتا ہے۔ “مدارج السالکین” بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ یہ باب امام ابن القیم رحمہ اللہ کی زندگی، علمی مقام اور اصلاحی منہج کا مختصر تعارف پیش کرتا ہے، تاکہ قاری اس عظیم کتاب کو اس کے صحیح علمی اور روحانی پس منظر میں سمجھ سکے۔
—
وہ انسان جن کی کتابیں آج بھی دلوں کو زندہ کرتی ہیں
تاریخِ اسلام میں بے شمار علماء، محدثین، فقہاء اور مفسرین گزرے ہیں جنہوں نے اپنے علم سے امت کی رہنمائی کی۔ لیکن ان میں چند شخصیات ایسی بھی ہیں جن کی تحریریں صرف ذہن کو معلومات نہیں دیتیں بلکہ دل کو بیدار کرتی ہیں، ایمان کو تازگی بخشتی ہیں اور انسان کا تعلق اپنے رب سے مضبوط کرتی ہیں۔
امام ابن القیم رحمہ اللہ انہی نابغۂ روزگار علماء میں سے ایک ہیں۔
ان کی کتابیں پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ مصنف محض ایک عالم نہیں، بلکہ ایک ایسا مربی ہے جو قاری کا ہاتھ پکڑ کر اسے اللہ تعالیٰ کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔ ان کے ہاں علم محض بحث و مناظرہ کا ذریعہ نہیں، بلکہ دل کی اصلاح، نفس کے تزکیے اور عمل کی درستی کا وسیلہ ہے۔
اسی لیے ان کی تصانیف میں قرآن کی روشنی، سنتِ نبوی ﷺ کی خوشبو، سلفِ صالحین کی حکمت اور ایک مخلص داعی کا درد نمایاں نظر آتا ہے۔ یہی اوصاف ان کی کتابوں کو ہر دور میں زندہ رکھتے ہیں۔
—
مختصر تعارف
امام ابن القیم رحمہ اللہ کا پورا نام محمد بن ابی بکر بن ایوب الزرعی الدمشقی ہے۔ آپ کی کنیت ابو عبداللہ اور لقب شمس الدین تھا۔ چونکہ آپ کے والد دمشق کے مشہور مدرسہ الجوزیہ کے نگران (قیّم) تھے، اس لیے آپ “ابن القیم” کے نام سے مشہور ہوئے، یعنی “قیّم (منتظم) کے بیٹے”۔
آپ کی ولادت 691 ہجری میں دمشق میں ہوئی۔ یہ وہ دور تھا جب عالمِ اسلام شدید سیاسی اور فکری آزمائشوں سے گزر رہا تھا، لیکن اسی دور میں ایسے عظیم علماء بھی پیدا ہوئے جنہوں نے علم، دعوت اور اصلاح کے ذریعے امت کو نئی زندگی عطا کی۔
ابتدائی عمر ہی سے آپ کو علم سے غیر معمولی شغف تھا۔ آپ نے حدیث، تفسیر، فقہ، عربی زبان اور دیگر اسلامی علوم اپنے زمانے کے جلیل القدر علماء سے حاصل کیے۔ آپ کی ذہانت، محنت اور طلبِ علم نے بہت جلد انہیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز کر دیا۔
لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی شخصیت کی تکمیل کے لیے ایک ایسا مرحلہ بھی مقدر فرمایا جس نے ان کی پوری علمی زندگی کا رخ متعین کر دیا، اور وہ تھا شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی صحبت۔
—
علم اور تربیت کا حسین امتزاج
امام ابن القیم رحمہ اللہ کی شخصیت کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے علم کو عمل سے، اور عمل کو اخلاص سے جوڑ دیا۔ ان کے نزدیک علم کا مقصد صرف مسائل جاننا نہیں تھا، بلکہ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنا، ایمان کو مضبوط کرنا اور زندگی کو اس کی رضا کے مطابق ڈھالنا تھا۔
اسی لیے ان کی ہر کتاب میں ایک داعی کا اخلاص، ایک مربی کی شفقت اور ایک طبیب کی بصیرت جھلکتی ہے۔ وہ صرف یہ نہیں بتاتے کہ حق کیا ہے، بلکہ یہ بھی سکھاتے ہیں کہ اس حق کو اپنی زندگی میں کیسے زندہ کیا جائے۔
یہی وجہ ہے کہ “مدارج السالکین” صرف تصوف، تزکیۂ نفس یا اخلاق کی کتاب نہیں، بلکہ بندے کے اللہ تعالیٰ کی طرف سفر کا ایک متوازن، قرآنی اور نبوی نقشۂ راہ ہے۔
—
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی صحبت
ایک ایسا تعلق جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا
ہر عظیم شخصیت کی زندگی میں کوئی نہ کوئی ایسا موڑ آتا ہے جو اس کی علمی اور فکری تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ امام ابن القیم رحمہ اللہ کی زندگی میں یہ مقام شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی صحبت کو حاصل ہے۔
امام ابن القیم رحمہ اللہ نے تقریباً سولہ برس تک شیخ الاسلام کی صحبت اختیار کی۔ اس دوران انہوں نے صرف علم ہی حاصل نہیں کیا، بلکہ حق سے محبت، دلیل کی پاسداری، سنتِ نبوی ﷺ کی اتباع، اخلاص، استقامت اور دین کی دعوت کا عملی نمونہ بھی دیکھا۔
یہ تعلق استاد اور شاگرد کے رسمی تعلق سے کہیں بڑھ کر تھا۔ امام ابن القیم رحمہ اللہ نے اپنے شیخ سے صرف مسائل نہیں سیکھے، بلکہ یہ بھی سیکھا کہ علم کا حقیقی مقصد بندوں کو اللہ تعالیٰ سے جوڑنا اور ان کے دلوں کی اصلاح کرنا ہے۔
جب شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو آزمائشوں، قید و بند اور مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا تو امام ابن القیم رحمہ اللہ بھی ان آزمائشوں میں اپنے استاد کے ساتھ ثابت قدم رہے۔ یہ استقامت ان کے اخلاص، وفاداری اور حق پسندی کی روشن دلیل ہے۔
—
علمی مقام اور نمایاں خدمات
امام ابن القیم رحمہ اللہ اپنے زمانے کے ممتاز محدث، مفسر، فقیہ، اصولی، مصلح اور مربی تھے۔ تاہم ان کی اصل امتیازی شان یہ تھی کہ انہوں نے مختلف اسلامی علوم کو ایک دوسرے سے مربوط کر کے پیش کیا۔
ان کی تحریروں میں قرآن کی گہرائی، حدیث کی روشنی، فقہ کی بصیرت، عربی زبان کی لطافت اور دل کی اصلاح کا درد ایک ساتھ نظر آتا ہے۔ یہی جامعیت انہیں اپنے معاصرین میں منفرد مقام عطا کرتی ہے۔
:اللہ تعالیٰ نے انہیں غیر معمولی قوتِ قلم عطا فرمائی۔ ان کی تصانیف صدیوں سے اہلِ علم کے لیے علم و حکمت کا سرچشمہ ہیں۔ ان کی چند معروف کتابیں یہ ہیں
– مدارج السالکین
– الفوائد
– الداء والدواء
– الوابل الصيب
– إغاثة اللهفان
– طريق الهجرتين
– مفتاح دار السعادة
– زاد المعاد في هدي خير العباد
ان تمام کتابوں کا ایک مشترک مقصد ہے: قرآن و سنت کی روشنی میں انسان کے عقیدے، دل، اخلاق اور عمل کی اصلاح۔
—
امام ابن القیم رحمہ اللہ کا اصلاحی منہج
امام ابن القیم رحمہ اللہ کے منہج کی سب سے نمایاں خصوصیت اعتدال ہے۔
انہوں نے نہ عقل کو وحی پر مقدم کیا، نہ جذبات کو شریعت سے آزاد کیا، اور نہ ہی روحانیت کو قرآن و سنت سے الگ سمجھا۔ ان کے نزدیک صحیح تزکیۂ نفس وہی ہے جو کتاب اللہ، سنتِ رسول اللہ ﷺ اور سلفِ صالحین کے فہم کے مطابق ہو۔
اسی لیے وہ بار بار اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ دل کی اصلاح، اعمال کی درستی اور اللہ تعالیٰ کی قربت کا راستہ وحی کی پیروی سے ہو کر گزرتا ہے، نہ کہ خود ساختہ طریقوں سے۔
ان کی تحریروں میں سختی کے بجائے خیر خواہی، مایوسی کے بجائے امید، اور پیچیدہ فلسفے کے بجائے قرآن و سنت کی سادہ اور روشن تعلیمات نمایاں نظر آتی ہیں۔ وہ قاری کو الجھاتے نہیں، بلکہ اس کا ہاتھ پکڑ کر منزل کی طرف لے جاتے ہیں۔
—
“مدارج السالکین” ان کی فکر کا آئینہ
اگر کسی ایک کتاب کے ذریعے امام ابن القیم رحمہ اللہ کی فکری اور تربیتی عظمت کو سمجھنا ہو تو “مدارج السالکین” اس کی بہترین مثال ہے۔
اس کتاب میں انہوں نے عبادت کو صرف ظاہری اعمال تک محدود نہیں رکھا، بلکہ دل کے اعمال، اخلاص، محبت، خوف، امید، توکل، رضا، صبر، شکر اور احسان کو ایمان کا لازمی حصہ قرار دیا۔
وہ قاری کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا سفر محض معلومات سے طے نہیں ہوتا، بلکہ مسلسل مجاہدہ، محاسبہ، اخلاص اور اللہ تعالیٰ کی توفیق سے مکمل ہوتا ہے۔
اسی وجہ سے “مدارج السالکین” صرف ایک علمی کتاب نہیں، بلکہ ایک زندہ مربی کی مانند ہے، جو ہر دور کے طالبِ حق کو اس کے رب کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔
—
باب دوم کا اختتام
عظیم کتابیں اتفاقاً وجود میں نہیں آتیں، بلکہ ان کے پیچھے علم، اخلاص، مجاہدہ، استقامت اور اللہ تعالیٰ کی خصوصی توفیق ہوتی ہے۔ امام ابن القیم رحمہ اللہ کی شخصیت اس حقیقت کا روشن نمونہ ہے۔
اب جبکہ ہم ان کی زندگی، علمی مقام اور اصلاحی منہج سے مختصر طور پر واقف ہو چکے ہیں، تو آئندہ ابواب میں ان کے افکار کو زیادہ گہرائی سے سمجھنا ہمارے لیے آسان ہوگا۔
آئیے، اب ہم اس روحانی سفر کے اگلے مرحلے کی طرف بڑھتے ہیں، جہاں امام ابن القیم رحمہ اللہ ہمیں “إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ” کی روشنی میں بندگی، تزکیہ اور اللہ تعالیٰ کی قربت کی منازل سے آشنا کریں گے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں علمِ نافع عطا فرمائے، ہمارے دلوں کو ہدایت سے منور کرے، ہمارے اعمال کو اخلاص سے مزین فرمائے، اور ہمیں ان بندوں میں شامل فرمائے جو علم کو سمجھتے بھی ہیں، اس پر عمل بھی کرتے ہیں اور دوسروں تک بھی پہنچاتے ہیں۔
آمین یا رب العالمین۔
(جاری ہے)
