ایمان کا امتحان
!سجدۂ شکر اور آنکھوں میں آنسو: جب لاہور کے ایک غریب کانسٹیبل نے 5 لاکھ روپے ٹھکرا کر اللّٰہ کا خوف چن لیا
یہ کہانی لاہور کے ایک ایسے غریب کانسٹیبل کی ہے جس کی اپنی تنخواہ شاید چند ہزار روپے ہوگی، جو خود کرائے کے مکان میں رہتا ہوگا، لیکن جب اس کے ایمان کا امتحان آیا تو اس نے دنیا کے سامنے ایمانداری کی وہ مثال قائم کر دی جس نے پورے پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا!
یہ لاہور کی معروف شاہراہ مال روڈ کا واقعہ ہے۔ کانسٹیبل رضوان علی اپنی تپتی دھوپ کی کڑی ڈیوٹی ختم کر کے گھر لوٹ رہے تھے۔ تھکن سے چور، پسینے میں شرابور رضوان کی نظر اچانک فٹ پاتھ پر پڑے ایک لاوارث کالے رنگ کے بیگ پر پڑی۔جب انہوں نے بیگ اٹھا کر کھولا تو ان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس بیگ میں ایک دو ہزار نہیں، بلکہ پورے 5 لاکھ روپے کی بھاری نقد رقم موجود تھی! یہ رقم ایک شہری عبدالستار کی تھی جو اپنی زندگی کی جمع پونجی بینک سے نکلوا کر بائیک پر جا رہا تھا اور بیگ راستے میں گر گیا۔ شیطان کا وسوسہ اور ایمان کی جیت!ایک لمحے کے لیے سوچیے! فٹ پاتھ پر کوئی دیکھنے والا نہیں تھا، کوئی سی سی ٹی وی کیمرہ نہیں تھا۔ رضوان چاہتے تو وہ بیگ چپ چاپ اپنے موٹرسائیکل پر رکھتے اور گھر چلے جاتے۔ ان کی غربت ختم ہو جاتی، شاید ان کے بچوں کے پاؤں میں اچھے جوتے اور گھر میں اچھا کھانا آ جاتا۔لیکن رضوان کے دل میں “اللّٰہ کا خوف” اور “حلال رزق” کا جذبہ تھا! انہوں نے اپنے ضمیر کا سودا کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ انہوں نے سوچا کہ یہ 5 لاکھ روپے کسی مجبور کی ہسپتال کی فیس ہو سکتی ہے، کسی غریب کی بیٹی کی شادی کا سامان ہو سکتا ہے، یا کسی یتیم کا آسرا ہو سکتا ہے۔ جب روتے ہوئے شہری کو اس کی کائنات مل گئی رضوان نے فوری طور پر اپنے محکمے کو اطلاع دی اور اس بیگ کے اصل مالک عبدالستار کو تلاش کیا۔ عبدالستار جو رقم گم ہونے کے بعد صدمے سے پاگل ہو چکا تھا اور سڑک پر سر پکڑ کر رو رہا تھا، جب اسے تھانے بلایا گیا اور رضوان نے وہ 5 لاکھ روپے اس کے ہاتھ میں تھمائے، تو وہ شہری رضوان کے گلے لگ کر بچوں کی طرح رو پڑا۔عبدالستار نے کانپتے ہاتھوں سے رضوان کو دعائیں دیں اور اپنی طرف سے 25 ہزار روپے انعام دینے کی کوشش کی، لیکن اس غیور کانسٹیبل نے مسکرا کر انعام لینے سے بھی انکار کر دیا اور کہا: “یہ میرا فرض تھا اور حلال رزق کا سکون اس 25 ہزار سے کہیں بڑھ کر ہے!”
پاکستانیو! ایسے ہیروز کو وائرل کرنا ہمارا فرض ہےہم روزانہ پولیس کی برائیوں کی پوسٹیں تو شیئر کرتے ہیں، لیکن جب کانسٹیبل رضوان جیسے فرشتے اپنی ایمانداری سے انسانیت کا سر بلند کرتے ہیں، تو ہم خاموش ہو جاتے ہیں۔آئیں آج اس غریب لیکن دل کے امیر کانسٹیبل رضوان کو دل کھول کر داد دیں۔ کمنٹس میں ان کے لیے “سلام” لکھیں اور اس پوسٹ کو اتنا شیئر کریں کہ یہ ہر غیور پاکستانی کے اسکرین پر نظر آئے۔ پاکستان زندہ باد
