ایران پاکستان گیس پائپ لائن
ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کے بعد پاکستان کے سامنے صرف ایک گیس پائپ لائن کا نہیں بلکہ پوری صدی کا سب سے بڑا معاشی موقع کھڑا ہے۔ اگر ہم آج بھی صرف ایران پاکستان گیس پائپ لائن تک سوچ محدود رکھیں گے تو شاید چند ارب ڈالر کا فائدہ حاصل ہو جائے، مگر اگر پاکستان اپنی جغرافیائی حیثیت کو صحیح معنوں میں استعمال کرے تو یہی منصوبہ دنیا کے بڑے انرجی کوریڈور میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
ایران کے پاس دنیا کے بڑے گیس اور تیل کے ذخائر موجود ہیں، جبکہ پاکستان کے پاس خلیج، جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مغربی چین کو جوڑنے والا مختصر ترین زمینی راستہ ہے۔ یہی وہ امتزاج ہے جس نے سنگاپور، فجیرہ اور روٹرڈیم جیسے شہروں کو عالمی توانائی کے مراکز میں تبدیل کیا، اور یہی موقع آج پاکستان کے پاس بھی موجود ہے۔
سب سے پہلے پاکستان اور ایران کے درمیان پاور گرڈ قائم کیا جا سکتا ہے، جس کے تحت ابتدائی طور پر 500 میگاواٹ بجلی درآمد کی جائے، پھر اسے ایک ہزار اور بعد ازاں تین ہزار میگاواٹ تک بڑھایا جائے۔ صرف یہی منصوبہ پاکستان کی معیشت میں سالانہ 2 سے 3 ارب ڈالر کا اضافہ کر سکتا ہے۔
اس کے بعد گوادر، پسنی، اورماڑہ اور کراچی تک پاکستان۔ایران انرجی بیلٹ قائم کی جا سکتی ہے، جہاں ایرانی گیس اور بجلی کو صرف گھریلو استعمال کے بجائے صنعتوں کے لیے استعمال کیا جائے۔ معدنیات کی پراسیسنگ، فشریز، کولڈ اسٹوریج، ڈی سیلینیشن پلانٹس، ایکسپورٹ زونز اور جدید صنعتی مراکز قائم کیے جائیں۔ یہی منصوبہ ہر سال 3 سے 5 ارب ڈالر کی اضافی معاشی سرگرمی پیدا کر سکتا ہے۔
گوادر کے قریب ایک پیٹروکیمیکل اور بلیو امونیا ہب قائم کیا جا سکتا ہے، جہاں ایرانی گیس کو کھاد، میتھانول، امونیا، شپنگ فیول اور دیگر کیمیکلز میں تبدیل کیا جائے۔ مقصد صرف گیس جلانا نہیں بلکہ گیس کو ڈالر میں تبدیل کرنا ہونا چاہیے۔ یہ شعبہ اکیلا 4 سے 6 ارب ڈالر سالانہ کی صنعت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اسی طرح تفتان، گوادر، پنجگور اور تربت میں سرحدی صنعتی پارکس قائم کیے جائیں، جہاں گیس کی بنیاد پر صنعتیں لگیں، روزگار پیدا ہو اور برآمدات میں اضافہ ہو۔ یہ منصوبہ سالانہ 2 سے 4 ارب ڈالر کی معاشی سرگرمی پیدا کر سکتا ہے۔
گوادر اور چاہ بہار کو ایک دوسرے کا حریف بنانے کے بجائے جڑواں بندرگاہی ماڈل کے تحت چلایا جائے۔ گوادر ذخیرہ، سی پیک اور ری ایکسپورٹ کا مرکز بنے جبکہ چاہ بہار ایران اور وسطی ایشیا کی تجارت کو سپورٹ کرے۔ اگر دونوں بندرگاہیں ایک دوسرے کی تکمیل کریں تو صرف یہ ماڈل 2 سے 4 ارب ڈالر سالانہ کی اضافی آمدنی پیدا کر سکتا ہے۔
اس کے علاوہ ایرانی خام تیل کو گوادر میں ذخیرہ کرنے کے لیے اسٹریٹیجک آئل اسٹوریج تعمیر کیے جائیں، ریفائنریاں اپ گریڈ کی جائیں، بارڈر مارکیٹس قائم ہوں، چھوٹے LNG اور CNG کوریڈورز بنائے جائیں اور پورے منصوبے کے لیے الگ الگ سرمایہ کاری ماڈیول تیار کیے جائیں تاکہ ہر منصوبہ اپنی آمدنی خود پیدا کرے۔
اگر ان تمام منصوبوں کو مرحلہ وار عملی شکل دی جائے تو ابتدائی پانچ برسوں میں پاکستان سالانہ 30 سے 35 ارب ڈالر کی اضافی معاشی سرگرمی پیدا کر سکتا ہے، جبکہ مکمل انرجی کوریڈور بننے کے بعد یہ صلاحیت 40 سے 45 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ سکتی ہے۔
دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ صرف ایک پائپ لائن کبھی کسی ملک کو معاشی طاقت نہیں بناتی، لیکن ایک مکمل انرجی کوریڈور پورے خطے کی قسمت بدل دیتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ پاکستان ایران سے گیس خرید سکتا ہے یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اپنی جغرافیائی حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے خلیج، وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مغربی چین کو جوڑنے والا دنیا کا اگلا عظیم انرجی کوریڈور بن سکتا ہے۔
