محسنِ پاکستان: عظیم سفر کا آغاز
قسط اول
مؤلف: طارق اقبال سوہدروی

​تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جب بھی کسی قوم کی بقا کو خطرہ لاحق ہوتا ہے، تو قدرت کسی نہ کسی ایسے انسان کو پیدا کر دیتی ہے جو تاریخ کا دھارا بدل کر رکھ دیتا ہے۔ برصغیر کی سرزمین پر ایک ایسے ہی عظیم انسان نے یکم اپریل 1936ء کو بھوپال کی ایک علمی اور باوقار فضا میں آنکھ کھولی۔ یہ ریاست بھوپال کا وہ سنہرا دور تھا جہاں علم و ادب کی محفلیں سجتی تھیں اور مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت اپنے عروج پر تھی۔ عبدالغفور خان، جو کہ پیشے کے اعتبار سے ایک استاد تھے، ان کے گھر میں پیدا ہونے والے اس بچے کا نام عبدالقدیر رکھا گیا۔
​کسے معلوم تھا کہ یہ معصوم بچہ، جو بھوپال کی تنگ مگر پرسکون گلیوں میں کھیل کر بڑا ہو رہا ہے، ایک دن اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت کا معمار بنے گا۔ ان کی والدہ زلیخا بیگم ایک انتہائی نیک اور دیندار خاتون تھیں، جن کی تربیت نے عبدالقدیر کی شخصیت میں ابتدا ہی سے حب الوطنی اور اسلامی اقدار کے بیج بو دیے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب برصغیر میں آزادی کی تحریک زوروں پر تھی اور فضاؤں میں ‘پاکستان زندہ باد’ کے نعرے گونج رہے تھے۔ مسلمانانِ ہند اپنے لیے ایک الگ وطن کے حصول کی جدوجہد میں مصروف تھے اور ننھے عبدالقدیر نے ہوش سنبھالا تو اپنے اردگرد ایک نظریاتی جنگ کو برپا دیکھا۔
​قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت اور مسلمانوں کی قربانیوں کی داستانیں ان کے کچے ذہن پر نقش ہوتی چلی گئیں۔ 1947ء میں جب پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرا، تو بھوپال کے مسلمانوں کے دلوں میں بھی اس نئی اسلامی ریاست کے لیے ایک تڑپ پیدا ہو گئی۔ اگرچہ بھوپال فوری طور پر پاکستان کا حصہ نہیں بنا، لیکن عبدالقدیر خان کے خاندان کا دل اسی نئی سرزمین کے ساتھ دھڑکتا تھا۔ بالاخر 1952ء میں، جب عبدالقدیر خان کی عمر محض 16 برس تھی، انہوں نے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر پاکستان ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا۔
​یہ ہجرت کا سفر کوئی آسان سفر نہیں تھا۔ اپنا آبائی گھر، بچپن کی یادیں، دوست احباب اور صدیوں پرانی جائیدادیں چھوڑ کر ایک نامعلوم مگر خوابوں کی سرزمین کی طرف چل پڑنا بے پناہ حوصلے کا تقاضا کرتا تھا۔ خستہ حال ٹرینوں کا سفر، سرحد پار کرنے کی صعوبتیں، اور رستے کے ان گنت خطرات عبور کرنے کے بعد، جب نوجوان عبدالقدیر نے پہلی بار کراچی کی سرزمین پر قدم رکھا، تو ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔ انہوں نے ریتلی زمین کو چوما اور دل ہی دل میں اس مٹی کا قرض چکانے کا عہد کیا۔
​کراچی ان دنوں مہاجرین سے بھرا ہوا تھا اور زندگی کی بنیادی سہولیات کا شدید فقدان تھا۔ عبدالقدیر خان نے ان کٹھن حالات میں بھی ہمت نہ ہاری اور اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ انہوں نے مشہور ڈی جے سائنس کالج میں داخلہ لیا، جہاں سے انہوں نے اپنی ابتدائی سائنسی تعلیم کی بنیاد رکھی۔ یہ وہ دن تھے جب وہ کراچی کی سڑکوں پر پیدل یا سائیکل پر سفر کرتے تھے، لیکن ان کے ارادے ہمالیہ کی طرح بلند تھے۔ دن رات کی محنت اور لگن کے بعد، 1960ء میں انہوں نے جامعہ کراچی سے فزکس اور ریاضی میں بی ایس سی کی ڈگری شاندار نمبروں سے حاصل کی۔
​تعلیم مکمل کرنے کے بعد، انہیں وزن اور پیمائش کے محکمے میں ایک سرکاری نوکری مل گئی۔ سرکاری نوکری اگرچہ اس دور میں ایک بڑی کامیابی سمجھی جاتی تھی، لیکن عبدالقدیر خان کی بے چین روح کچھ اور ہی تلاش کر رہی تھی۔ وہ محض ایک عام سرکاری افسر بن کر فائلوں کے ڈھیر میں اپنی زندگی ضائع نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ان کے اندر کا سائنسدان انہیں مسلسل آواز دے رہا تھا اور وہ محسوس کر چکے تھے کہ اگر پاکستان کو دنیا میں ایک باوقار مقام دلانا ہے، تو جدید سائنس اور ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنا ناگزیر ہے۔
​اسی مقصد کے تحت، انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ جانے کا ارادہ کیا۔ یہ کوئی معمولی فیصلہ نہیں تھا کیونکہ ان کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے کہ وہ باآسانی یورپ کا خرچ اٹھا سکیں۔ مگر جس انسان کے ارادے پختہ ہوں، قدرت اس کے لیے راستے خود ہموار کر دیتی ہے۔ 1961ء میں، عبدالقدیر خان مغربی برلن پہنچ گئے، جہاں انہوں نے ٹیکنیکل یونیورسٹی آف برلن میں میٹالرجیکل انجینئرنگ کی تعلیم کا آغاز کیا۔ یورپ کی جدید تجربہ گاہیں اور وہاں کا تعلیمی ماحول ان کے لیے ایک نئی دنیا تھی۔
​انہوں نے جرمن زبان سیکھی اور دن رات ایک کر کے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ برلن میں چند سال گزارنے کے بعد، وہ 1967ء میں ہالینڈ چلے گئے اور مشہورِ زمانہ ڈیلفٹ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں داخلہ لیا۔ یہیں سے انہوں نے انجینئرنگ کی باقاعدہ ڈگری حاصل کی اور دھاتوں کی سائنس میں اپنی مہارت کو بامِ عروج تک پہنچایا۔ ہالینڈ کا قیام ان کی ذاتی زندگی کے لیے بھی ایک اہم موڑ ثابت ہوا جہاں ان کی ملاقات ایک ڈچ خاتون ہنی سے ہوئی، جن سے انہوں نے شادی کر لی۔ ہنی نے بعد ازاں اسلام قبول کیا اور عبدالقدیر خان کی زندگی کے ہر مشکل موڑ پر ان کا بھرپور ساتھ دیا۔
​ہالینڈ میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد، وہ بیلجیئم چلے گئے اور کیتھولک یونیورسٹی آف لیووین میں پی ایچ ڈی کے لیے داخلہ لیا۔ 1972ء وہ سال تھا جب ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے میٹالرجیکل انجینئرنگ میں اپنی پی ایچ ڈی کامیابی کے ساتھ مکمل کر لی۔ اب وہ یورپ کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور مانے ہوئے سائنسدان بن چکے تھے۔ ان کی قابلیت کو دیکھتے ہوئے، انہیں یورینیم کی افزودگی کے ایک اہم یورپی کنسورشیم ‘یورینکو’ سے منسلک ایک ڈچ کمپنی ‘ایف ڈی او’ میں ملازمت مل گئی۔ یہاں انہیں سینٹری فیوج ٹیکنالوجی کے انتہائی حساس اور خفیہ منصوبوں تک رسائی حاصل ہوئی۔

یہ وہ ٹیکنالوجی تھی جو اس وقت دنیا کے چند ہی ترقی یافتہ ممالک کے پاس تھی اور اسے ایک انتہائی محفوظ راز سمجھا جاتا تھا۔ ڈاکٹر خان کی غیر معمولی ذہانت اور انتھک محنت نے جلد ہی انہیں کمپنی کے اہم ترین اور قابلِ اعتماد انجینئرز کی صف میں لا کھڑا کیا۔ وہ اپنی اہلیہ اور دو بیٹیوں کے ہمراہ ایک پرسکون، خوشحال اور انتہائی پرآسائش زندگی گزار رہے تھے۔ ان کا مستقبل محفوظ تھا اور یورپ کی سائنسی دنیا میں ان کے لیے ترقی کی بے پناہ راہیں کھلی تھیں۔ لیکن تقدیر اس عظیم انسان کو کسی اور ہی عظیم اور کٹھن مقصد کے لیے تیار کر رہی تھی۔
مئی 1974ء میں عالمی منظر نامے پر ایک ایسا لرزہ خیز واقعہ پیش آیا جس نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی پرسکون زندگی میں ایک طوفان برپا کر دیا۔ ہندوستان نے راجستھان کے صحرا میں ‘اسمائلنگ بدھا’ کے خفیہ نام سے اپنا پہلا ایٹمی تجربہ کر ڈالا۔ اس دھماکے کی گونج نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا میں خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن مکمل طور پر ہندوستان کے حق میں جھک گیا تھا۔ 1971ء میں سقوطِ ڈھاکہ کا زخم ابھی تازہ تھا، پاکستانی قوم ابھی اس سانحے کے صدمے سے پوری طرح ابھر نہیں پائی تھی کہ اب ہندوستان کا ایٹمی طاقت بن جانا پاکستان کی سلامتی اور بقا کے لیے ایک براہ راست اور انتہائی خوفناک خطرہ بن کر سامنے آیا۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان، جو اس وقت ہالینڈ میں اپنے آرام دہ دفتر میں بیٹھے تھے، اس خبر کو سن کر بے چین ہو اٹھے۔ ان کے ذہن میں 1947ء کی ہجرت کے مناظر، لٹے پٹے قافلے، کٹی ہوئی لاشیں اور قربانیوں کی وہ عظیم داستانیں فلم کی طرح چلنے لگیں جو انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی تھیں۔ ان کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔ انہیں شدت سے احساس ہوا کہ اگر اب پاکستان نے کوئی ٹھوس قدم نہ اٹھایا تو دشمن اپنے ایٹمی بل بوتے پر پاکستان کے وجود کو دنیا کے نقشے سے مٹا دے گا۔ ان کی حب الوطنی اور غیرتِ ایمانی نے انہیں جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
اسی بے قراری اور حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہو کر، انہوں نے ایک کاغذ اور قلم اٹھایا اور پاکستان کے اس وقت کے وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو کو ایک تاریخی اور جذباتی خط لکھا۔ اس خط میں انہوں نے نہ صرف ہندوستان کے ایٹمی تجربے کی سنگینی اور پاکستان کو درپیش خطرات پر تفصیل سے روشنی ڈالی، بلکہ اپنی وہ تمام تر سائنسی خدمات بغیر کسی لالچ کے اپنی قوم کے لیے پیش کر دیں۔ انہوں نے بھٹو پر واضح کیا کہ وہ یورینیم افزودگی کی وہ جدید ترین سینٹری فیوج ٹیکنالوجی بخوبی جانتے ہیں جو پاکستان کو بہت کم عرصے میں ایٹمی میدان میں اپنے مکار دشمن کے برابر لا کھڑا کر سکتی ہے۔
یہ خط محض ایک سائنسی پیشکش نہیں تھی، بلکہ یہ ایک سچے محبِ وطن کے دل کی وہ آواز تھی، جس نے تاریخ کا دھارا موڑنے کا اٹل فیصلہ کر لیا تھا۔ وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو، جو خود بھی ایک دور اندیش رہنما تھے اور پاکستان کی سلامتی کے لیے ایٹمی پروگرام کی ناگزیر اہمیت سے بخوبی واقف تھے، اس خط کو پڑھ کر انتہائی حیران اور پرامید ہوئے۔ انہوں نے اس پیشکش کی نزاکت اور اہمیت کو فوراً بھانپ لیا اور ڈاکٹر خان کو انتہائی رازدارانہ طریقے سے ملاقات کے لیے پاکستان بلوایا۔
دسمبر 1974ء میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کا دورہ کیا اور وزیراعظم بھٹو سے ایک طویل اور انتہائی اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیادیں رکھی گئیں۔ بھٹو نے ڈاکٹر خان کی آنکھوں میں وہ چمک اور ارادوں میں وہ پختگی دیکھی جو کسی بھی ناممکن کو ممکن بنانے کے لیے کافی تھی۔ انہوں نے ڈاکٹر خان سے کہا کہ وہ واپس ہالینڈ جائیں اور وہاں رہتے ہوئے پاکستان کے لیے ضروری معلومات اور خاکہ جات تیار کریں۔
اور یوں بھوپال کی تنگ گلیوں سے شروع ہونے والا یہ سفر، جو یورپ کی جدید لیبارٹریوں اور ہالینڈ کے پرسکون شہروں تک پہنچا تھا، اب ایک ایسے پراسرار اور خطرناک طوفان کا رخ کرنے والا تھا جو پوری دنیا کی خفیہ ایجنسیوں کی توجہ کا مرکز بننے والا تھا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اپنا شاندار کیرئیر، یورپ کی پرتعیش زندگی اور محفوظ ترین مستقبل کو ٹھوکر مار کر، صرف اور صرف اپنی مٹی کی محبت میں ایک ایسے پرخطر راستے پر نکلنے والے تھے جس کا ہر قدم کانٹوں اور موت کے خطرات سے بھرا تھا۔ انہوں نے وہ فیصلہ کر لیا تھا جو صدیوں میں کوئی ایک انسان ہی کر پاتا ہے۔
جب مغربی دنیا کی خفیہ ایجنسیوں کو اس پراسرار پاکستانی سائنسدان کی سرگرمیوں کی بھنک پڑی، تو موت کے سائے ان کے تعاقب میں لگ گئے۔ آخر کیسے ایک اکیلے شخص نے سی آئی اے اور موساد جیسی خوفناک ایجنسیوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر یورپ سے وہ انتہائی حساس معلومات نکالیں جن تک رسائی ناممکن سمجھی جاتی تھی؟
کتاب: ڈاکٹر اے کیو خان آن سائنس اینڈ ایجوکیشن (Dr. A.Q. Khan on Science and Education)
کتاب: دی اسلامک بمب (The Islamic Bomb) از اسٹیو وائس مین اور ہربرٹ کروسنی
روزنامہ جنگ اور نوائے وقت کے تاریخی مضامین اور ڈاکٹر خان کے انٹرویوز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *