Mohsin e Pakistan episode 2
موت کے سائے اور پراجیکٹ 706
قسط دوم
مؤلف: طارق اقبال سوہدروی
دسمبر 1974ء میں وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو سے وہ تاریخی ملاقات کر کے جب ڈاکٹر عبدالقدیر خان واپس ہالینڈ پہنچے، تو ان کی کیفیت اس مجاہد جیسی تھی جو دشمن کی صفوں میں تنہا کھڑا ہو۔ ان کا ہدف اب صرف ایک تھا کہ کسی نہ کسی طرح یورینیم کی افزودگی کے ان حساس ترین خاکہ جات اور معلومات کو پاکستان منتقل کرنا، جو اس وقت مغربی دنیا کا سب سے بڑا اور محفوظ ترین راز سمجھے جاتے تھے۔
ہالینڈ کی ‘ایف ڈی او’ لیبارٹری، جہاں وہ کام کرتے تھے، کوئی عام جگہ نہیں تھی۔ یہاں قدم قدم پر سیکیورٹی کے کڑے پہرے تھے اور یورینکو کنسورشیم کے سینٹری فیوج پراجیکٹ سے جڑی ہر فائل پر موت کا پہرہ تھا۔ مگر ڈاکٹر خان کی غیر معمولی قابلیت، ان کے اعلیٰ اخلاق اور جرمن و ڈچ زبانوں پر عبور نے انہیں کمپنی کے ان چند گنے چنے افراد میں شامل کر دیا تھا جنہیں سب سے حساس حصوں تک بلا روک ٹوک رسائی حاصل تھی۔
یہیں سے تاریخ کی وہ سنسنی خیز اور خاموش جنگ شروع ہوئی جس کی مثال جاسوسی اور سائنس کی دنیا میں ملنا محال ہے۔ ڈاکٹر خان دن بھر ایک عام اور ذہین سائنسدان کے طور پر اپنا کام کرتے، لیکن ان کی عقابی نگاہیں ان مشینوں کی باریکیوں کو اپنے ذہن میں نقش کر رہی ہوتیں۔ وہ سینٹری فیوج ٹیکنالوجی کے پیچیدہ ڈیزائن، دھاتوں کے مرکبات اور روٹرز کی رفتار کے فارمولے یاد کرتے اور گھر آ کر انتہائی احتیاط سے انہیں کاغذ پر منتقل کر دیتے۔
یہ وہ دور تھا جب مغربی انٹیلی جنس ایجنسیاں، خصوصاً ڈچ خفیہ ایجنسی ‘بی وی ڈی’ معمول کی نگرانی کرتی تھیں۔ لیکن ڈاکٹر خان کا طرزِ عمل اتنا محتاط اور فطری تھا کہ کسی کو ان پر شک نہ گزرا۔ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ عام سی زندگی گزارتے، چھٹیوں کے دن بیٹیوں کے ساتھ سیر پر جاتے، مگر ان کے کوٹ کی جیبوں میں اکثر وہ نوٹس ہوتے جو پاکستان کی تقدیر بدلنے والے تھے۔ رفتہ رفتہ انہوں نے وہ تمام تکنیکی معلومات اکٹھی کر لیں جو ایک مکمل ایٹمی پلانٹ لگانے کے لیے درکار تھیں۔
اب اگلا مرحلہ ان معلومات اور خاکہ جات کو پاکستان کے محفوظ ہاتھوں تک پہنچانا تھا۔ یہ کام کسی بھی ایٹمی دھماکے سے کم خطرناک نہ تھا۔ اگر وہ پکڑے جاتے تو نہ صرف ان کی اپنی زندگی غارت ہو جاتی، بلکہ پاکستان کا ایٹمی خواب ہمیشہ کے لیے دفن ہو جاتا اور دشمن کا غرور آسمان کو چھونے لگتا۔ لیکن جس دل میں قوم کا درد اور ایمان کی حرارت ہو، وہ موت کی پرواہ کب کرتا ہے۔
1975ء کے وسط تک، حالات تیزی سے بدلنے لگے۔ ڈاکٹر خان کو محسوس ہونے لگا کہ ان کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے۔ کچھ نامعلوم افراد ان کے گھر اور دفتر کے آس پاس منڈلاتے دیکھے جانے لگے تھے۔ دراصل، ہالینڈ کی انٹیلی جنس کو کسی نہ کسی طرح یہ بھنک پڑ چکی تھی کہ یورینکو کی معلومات کہیں لیک ہو رہی ہیں، لیکن انہیں ابھی تک حتمی طور پر یہ نہیں معلوم تھا کہ یہ کام کون کر رہا ہے۔ سی آئی اے اور موساد جیسی خوفناک ایجنسیاں بھی اس خطرے کو بھانپتے ہوئے حرکت میں آ چکی تھیں۔
جب شک کی سوئیاں رفتہ رفتہ ڈاکٹر خان کی طرف گھومنے لگیں تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب ہالینڈ میں مزید رکنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ 15 دسمبر 1975ء کو وہ دن آ گیا جب انہوں نے اپنی اہلیہ ہنی اور دونوں بیٹیوں کو ساتھ لیا، اور بظاہر یہ ظاہر کیا کہ وہ کرسمس کی چھٹیاں گزارنے کے لیے اپنے سسرال جا رہے ہیں۔ کسی کو کانوں کان خبر نہ تھی کہ یہ شخص اب کبھی واپس اس لیبارٹری میں قدم نہیں رکھے گا۔
یہ سفر انتہائی اعصاب شکن تھا۔ ان کے پاس وہ قیمتی دستاویزات اور مائیکرو فلمیں تھیں جو اگر ایئرپورٹ یا بارڈر کی چیکنگ پر پکڑی جاتیں، تو دنیا کا کوئی قانون انہیں موت یا بدترین اذیتوں سے نہیں بچا سکتا تھا۔ لیکن اللہ کی غیبی مدد اور ان کی حکمتِ عملی سے وہ بخیریت یورپ کی سرحدیں عبور کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ چند ہی دنوں بعد، وہ اپنے خاندان سمیت بحفاظت پاکستان کی سرزمین پر موجود تھے۔ مغربی ایجنسیوں کو جب تک ان کے فرار کی خبر ملی، وہ اپنے خزانوں سمیت ان کی پہنچ سے بہت دور جا چکے تھے۔
پاکستان پہنچنے کے بعد، کچھ عرصہ انہوں نے روایتی بیوروکریسی کے ماتحت کام کرنے کی کوشش کی، لیکن جلد ہی انہیں اندازہ ہو گیا کہ اس سست رفتار اور کاغذی نظام کے تحت جدید ترین ایٹم بم بنانا ناممکن ہے۔ جولائی 1976ء میں وزیراعظم بھٹو نے ایک بار پھر ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے مداخلت کی اور ڈاکٹر خان کو مکمل اور آزادانہ اختیارات کے ساتھ ایک نیا پراجیکٹ شروع کرنے کی ہدایت کی۔ اس پراجیکٹ کا خفیہ نام ‘پراجیکٹ 706’ رکھا گیا۔
اس پراجیکٹ کے لیے راولپنڈی کے قریب ایک چھوٹے اور غیر معروف سے قصبے ‘کہوٹہ’ کا انتخاب کیا گیا۔ یہ جگہ پہاڑیوں میں گھری ہوئی تھی اور سیکیورٹی کے لحاظ سے انتہائی موزوں تھی۔ یہاں ‘انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز’ کی بنیاد رکھی گئی، جس کا نام بعد میں ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں صدر جنرل ضیاء الحق نے بدل کر ‘خان ریسرچ لیبارٹریز’ (KRL) رکھ دیا۔
کہوٹہ کی ان سنسان پہاڑیوں میں جہاں کبھی صرف ہوا کا راج تھا، اب دن رات بھاری مشینری کی گھن گرج سنائی دینے لگی تھی۔ ڈاکٹر خان نے ملک بھر سے چن چن کر بہترین انجینئرز، سائنسدانوں اور تکنیکی ماہرین کی ایک ایسی ٹیم کھڑی کی جو اپنے کام میں جنون کی حد تک ماہر تھی۔ یہ لوگ دن رات ایک کر کے ان خاکہ جات کو حقیقت کا روپ دینے میں مصروف ہو گئے جو ڈاکٹر خان یورپ سے لائے تھے۔
مگر یہ سفر پھولوں کی سیج نہیں تھا۔ مغربی دنیا، خصوصاً امریکہ کی سی آئی اے اور اسرائیل کی موساد کو جلد ہی کہوٹہ کی ان پراسرار سرگرمیوں کی بھنک پڑ گئی۔ انہوں نے پاکستان کو سینٹری فیوجز کے پرزہ جات اور حساس دھاتوں کی فراہمی روکنے کے لیے پوری دنیا میں سخت ترین پابندیاں عائد کر دیں۔ لیکن ڈاکٹر خان اور ان کی ٹیم نے ہار ماننا سیکھا ہی نہیں تھا۔ جب سیدھے راستے بند ہوئے تو انہوں نے یورپ، افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ میں درجنوں فرضی کمپنیاں قائم کیں۔ ان کمپنیوں کے ذریعے مختلف پرزہ جات الگ الگ ممالک سے خریدے جاتے اور پھر انتہائی خفیہ راستوں سے پاکستان پہنچائے جاتے۔
یہ ایک ایسا عالمی چوہے بلی کا کھیل تھا جس میں پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے ڈاکٹر خان اور ان کے نیٹ ورک کو ایک فولادی حصار میں رکھا ہوا تھا۔ کئی بار ایسا ہوا کہ حساس آلات سے بھرے بحری جہاز منجدھار میں تھے اور سی آئی اے انہیں ضبط کرنے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن عین وقت پر وہ سامان کسی اور جہاز میں منتقل کر کے بحفاظت کراچی کی بندرگاہ پر اتار لیا گیا۔ ڈاکٹر خان نے نہ صرف باہر سے سامان منگوایا بلکہ انہوں نے مقامی سطح پر بھی پاکستان کی صنعتوں کو اس قابل بنایا کہ وہ ایٹمی پروگرام کے لیے درکار پیچیدہ ترین پرزے خود تیار کر سکیں۔
اس دوران مغربی پریس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے خلاف ایک زبردست اور منظم پروپیگنڈا مہم کا آغاز کر دیا۔ انہیں ‘ایٹمی جاسوس’ اور ‘اسلامی بم کا خالق’ جیسے القابات دیے گئے۔ ہالینڈ کی حکومت نے ان کی غیر موجودگی میں ان پر مقدمہ چلایا اور انہیں خفیہ معلومات چرانے کے الزام میں چار سال قید کی سزا سنا دی، حالانکہ بعد میں ڈچ ہائی کورٹ نے قانونی خامیوں کی بنا پر یہ سزا کالعدم قرار دے دی تھی۔ یہ تمام اوچھے ہتھکنڈے دراصل پاکستان کو نفسیاتی دباؤ میں لانے اور کہوٹہ پراجیکٹ کو سبوتاژ کرنے کی ناکام کوششیں تھیں۔
یہاں تک کہ اسرائیل نے کہوٹہ پر فضائی حملے کا منصوبہ بھی بنایا، بالکل اسی طرح جیسے اس نے 1981ء میں عراق کے ایٹمی ری ایکٹر اوسیراک کو تباہ کیا تھا۔ مگر پاکستان کی فضائیہ اور انٹیلی جنس بروقت الرٹ ہو گئیں۔ کہوٹہ کے اردگرد اینٹی ایئر کرافٹ گنوں اور میزائلوں کا ایسا جال بچھا دیا گیا کہ دشمن کے طیاروں کے لیے وہاں گھسنا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ اس کے ساتھ ہی، پاکستان نے عالمی طاقتوں پر واضح کر دیا کہ کہوٹہ پر کسی بھی حملے کا مطلب بھارت کی ایٹمی تنصیبات پر جوابی اور فیصلہ کن حملہ ہوگا۔
دنیا کی تمام تر پابندیوں، دھمکیوں اور سازشوں کے باوجود، کہوٹہ میں یورینیم کی افزودگی کا عمل تیزی سے جاری رہا۔ وہ سینٹری فیوجز، جو کبھی صرف ڈاکٹر خان کے ذہن اور چند کاغذوں پر نقش تھے، اب کہوٹہ کی زیرِ زمین تجربہ گاہوں میں ہزاروں کی تعداد میں پوری رفتار سے گھوم رہے تھے۔ 1980ء کی دہائی کے اوائل تک، ڈاکٹر خان اور ان کی ٹیم نے وہ معجزہ کر دکھایا جس کا مغربی دنیا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔ انہوں نے انتہائی کم وقت اور محدود وسائل کے باوجود، پاکستان کو ویپن گریڈ یورینیم تیار کرنے کے قابل بنا دیا تھا۔
اب پاکستان تکنیکی طور پر ایک ایٹمی طاقت بننے کی دہلیز پر کھڑا تھا۔ ایٹم بم کا خام مال تیار تھا اور اسے ایک موثر ہتھیار کی شکل دینے کا مرحلہ بھی تیزی سے طے کیا جا رہا تھا۔ مگر یہ کامیابی اتنی سستی نہیں تھی۔ مغربی طاقتیں اس ‘اسلامی بم’ کو ہر صورت روکنا چاہتی تھیں، اور اب ان کا اگلا ہدف صرف ڈاکٹر خان نہیں، بلکہ پورا پاکستان اور اس کی قیادت تھی۔
80 اور 90 کی دہائی کی وہ خوفناک سرد جنگ، جب امریکی دباؤ نے پاکستان کی سانسیں روکے رکھی تھیں۔ اور پھر مئی 1998 کا وہ تاریخی دن جب چاغی کے پہاڑوں نے وہ نعرہِ تکبیر سنا جس نے دشمنوں کے غرور کو ہمیشہ کے لیے خاک میں ملا دیا…
کتاب: ڈاکٹر اے کیو خان آن سائنس اینڈ ایجوکیشن (Dr. A.Q. Khan on Science and Education)
کتاب: دی اسلامک بمب (The Islamic Bomb) از اسٹیو وائس مین اور ہربرٹ کروسنی
قومی اخبارات (جنگ/نوائے وقت) کے تاریخی آرکائیوز اور دفاعی تجزیہ کاروں کے انٹرویوز
