چاغی کے پہاڑ اور ایٹمی تکبیر
قسط سوم
مؤلف: طارق اقبال سوہدروی
کہوٹہ کی زیرِ زمین تجربہ گاہوں میں دن رات گھومتے سینٹری فیوجز نے بالآخر وہ معجزہ کر دکھایا تھا جس کا خواب 1974ء میں دیکھا گیا تھا۔ 1980ء کی دہائی کے وسط تک ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی انتھک محنت کرنے والی ٹیم نے پاکستان کو اس مقام پر لا کھڑا کیا تھا جہاں ایٹم بم کی تیاری کے لیے درکار افزودہ یورینیم کی مطلوبہ مقدار حاصل کر لی گئی تھی۔ اب پاکستان تکنیکی اور سائنسی اعتبار سے ایک ایٹمی طاقت بن چکا تھا، لیکن اسے دنیا کے سامنے ظاہر کرنے کا وقت ابھی نہیں آیا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب عالمی بساط پر سرد جنگ اپنے عروج پر تھی اور افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جنگ جاری تھی۔ امریکہ کو اس جنگ میں پاکستان کی ضرورت تھی، اس لیے اس نے کہوٹہ کی سرگرمیوں پر مصلحتاً آنکھیں بند کیے رکھیں۔
لیکن جیسے ہی 1989ء میں سوویت یونین کو افغانستان سے شکست ہوئی اور روسی افواج واپس لوٹیں، امریکہ کا رویہ پاکستان کے حوالے سے یکسر تبدیل ہو گیا۔ جس پاکستان کو کل تک فرنٹ لائن اسٹیٹ کہا جا رہا تھا، اس پر اچانک ایٹمی پھیلاؤ کے الزامات لگنے لگے۔ 1990ء میں بدنامِ زمانہ ‘پریسلر ترمیم’ کے تحت پاکستان پر سخت ترین معاشی اور عسکری پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ پاکستان کی فوجی اور اقتصادی امداد مکمل طور پر روک دی گئی اور امریکہ نے دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ پاکستان اپنا ایٹمی پروگرام رول بیک کرے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی کٹھن دور تھا جب ملک میں سیاسی عدم استحکام بھی عروج پر تھا اور حکومتیں تیزی سے بدل رہی تھیں۔
ان تمام تر نامساعد حالات، فنڈز کی شدید قلت اور عالمی دباؤ کے باوجود، ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی ٹیم نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے نہ صرف افزودگی کے عمل کو جاری رکھا بلکہ ایٹمی ہتھیاروں کو میزائلوں کے ذریعے ہدف تک پہنچانے کے جدید ترین نظام پر بھی کام شروع کر دیا۔ ڈاکٹر خان بخوبی جانتے تھے کہ صرف ایٹم بم بنا لینا کافی نہیں، بلکہ دشمن کے دل میں اس کا خوف تبھی بیٹھے گا جب ہمارے پاس اسے مار گرانے کا موثر ترین ڈیلیوری سسٹم موجود ہو۔ اسی سوچ کے تحت غوری میزائل پراجیکٹ کا آغاز کیا گیا، جس نے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو ایک نئی جہت بخشی اور دشمن کی نیندیں اڑا دیں۔
90 کی دہائی کا یہ پورا عشرہ اسی کشمکش اور عالمی سازشوں کے سائے میں گزرا۔ پاکستان نے انتہائی خاموشی اور صبر کے ساتھ اپنے ایٹمی پروگرام کو محفوظ رکھا۔ لیکن مئی 1998ء میں عالمی منظر نامے پر ایک بار پھر ایسا زلزلہ آیا جس نے جنوبی ایشیا کے امن کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا۔ ہندوستان نے 11 اور 13 مئی 1998ء کو راجستھان کے صحرا پوکھران میں یکے بعد دیگرے پانچ ایٹمی دھماکے کر کے پوری دنیا کو حیران کر دیا۔ ان دھماکوں کے بعد ہندوستانی قیادت کا لہجہ یکسر بدل گیا۔ ان کے وزراء نے پاکستان کو کھلے عام دھمکیاں دینا شروع کر دیں اور یہ تاثر دیا جانے لگا کہ اب پاکستان ہندوستان کے سامنے سر تسلیم خم کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔
ہندوستان کے ان ایٹمی دھماکوں نے پاکستان کے طول و عرض میں ایک شدید اضطراب پیدا کر دیا۔ عوام سڑکوں پر نکل آئے اور ہر طرف سے ایک ہی آواز گونجنے لگی کہ پاکستان کو فوراً جوابی ایٹمی دھماکے کرنے چاہئیں۔ اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف پر بے پناہ ملکی اور عالمی دباؤ تھا۔ ایک طرف قوم کا غصہ اور ملکی بقا کا سوال تھا، اور دوسری طرف امریکہ اور مغربی دنیا کی طرف سے ملنے والی سنگین دھمکیاں تھیں۔ امریکی صدر بل کلنٹن نے نواز شریف کو پانچ بار فون کیا اور پیشکش کی کہ اگر پاکستان ایٹمی دھماکے نہیں کرے گا تو اسے اربوں ڈالر کی امداد دی جائے گی، اور اگر دھماکے کیے تو پاکستان کو پتھر کے دور میں دھکیل دیا جائے گا۔
یہ وہ نازک ترین لمحہ تھا جب پاکستان کی تقدیر کا فیصلہ ہونا تھا۔ ایک طرف اربوں ڈالر کی پیشکش تھی اور دوسری طرف ملکی غیرت اور بقا کا سودا تھا۔ اس گھمبیر صورتحال میں، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا موقف چٹان کی طرح مضبوط تھا۔ انہوں نے عسکری اور سیاسی قیادت کو دو ٹوک الفاظ میں بریفنگ دی کہ ہم پوری طرح تیار ہیں، ہماری ٹیکنالوجی ہندوستان سے کہیں زیادہ جدید اور موثر ہے، آپ صرف حکم دیں، ہم چند دن کے اندر اندر وہ دھماکے کر کے دکھائیں گے جو دشمن کے ہوش اڑا دیں گے۔ ڈاکٹر خان کے اس بے پناہ اعتماد اور پرعزم لہجے نے قیادت کو وہ حوصلہ دیا جس کی اس وقت اشد ضرورت تھی۔ بالاخر، تمام تر عالمی دباؤ، دھمکیوں اور لالچ کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے، جوابی ایٹمی دھماکے کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا۔
دھماکوں کے لیے بلوچستان کے سنگلاخ اور دشوار گزار پہاڑی سلسلے ‘چاغی’ کا انتخاب کیا گیا۔ یہ مقام سینکڑوں کلومیٹر دور ایک ویران اور گرم ترین علاقہ تھا جہاں زندگی کے آثار نہ ہونے کے برابر تھے۔ کہوٹہ سے ایٹمی آلات اور حساس ترین مواد کو سخت ترین سیکیورٹی میں سی-130 طیاروں کے ذریعے چاغی منتقل کرنے کا مرحلہ شروع ہوا۔ یہ ایک انتہائی خطرناک اور اعصاب شکن آپریشن تھا، کیونکہ مغربی ممالک کے جاسوس سیٹلائٹس پاکستان کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی ٹیم کے دیگر اہم سائنسدان، جن میں ڈاکٹر ثمر مبارک مند بھی شامل تھے، چاغی پہنچے۔
چاغی کے ان تپتے ہوئے پہاڑوں کے اندر میلوں لمبی سرنگیں پہلے ہی کھودی جا چکی تھیں۔ سائنسدانوں اور انجینئرز نے دن رات ایک کر کے ایٹمی ڈیوائسز کو سرنگوں کے اندر نصب کیا اور کیبلز بچھانے کا کام مکمل کیا۔ 28 مئی 1998ء کی وہ گرم ترین دوپہر آ پہنچی جس کا انتظار پوری پاکستانی قوم بے تابی سے کر رہی تھی۔ چاغی کے مقام پر ایک عجیب سی خاموشی اور تناؤ کا عالم تھا۔ کنٹرول روم میں تمام آلات کی آخری بار جانچ پڑتال کی جا رہی تھی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان، دیگر سائنسدان اور عسکری حکام سانسیں روکے اس لمحے کا انتظار کر رہے تھے جب الٹی گنتی شروع ہونی تھی۔
جیسے ہی الٹی گنتی ختم ہوئی، ‘اللہ اکبر’ کی گونجدار صدا کے ساتھ وہ تاریخی بٹن دبا دیا گیا۔ ایک لمحے کے لیے وقت جیسے تھم سا گیا۔ اور پھر چاغی کے ان دیوہیکل اور سیاہ پہاڑوں کے اندر ایک ایسا زلزلہ برپا ہوا جس نے زمین کا سینہ چیر کر رکھ دیا۔ زیرِ زمین ہونے والے ان ایٹمی دھماکوں کی شدت اس قدربت زیادہ تھی کہ پورا پہاڑ لرز اٹھا اور چند ہی سیکنڈز کے اندر وہ فلک بوس سیاہ پہاڑ ایٹمی حرارت کی وجہ سے مکمل طور پر سفید ہو گیا۔ یہ وہ منظر تھا جس نے تاریخ کے دھارے کو ہمیشہ کے لیے موڑ دیا۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان، جو اسکرین پر اس سارے منظر کو لرزتی مگر پرعزم نگاہوں سے دیکھ رہے تھے، بے اختیار سجدے میں گر پڑے۔ ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی۔ یہ وہ خواب تھا جس کے لیے انہوں نے اپنی جوانی، اپنا شاندار کیریئر اور یورپ کی پرتعیش زندگی قربان کر دی تھی۔ آج وہ تمام راتوں کی جاگ، وہ تمام خوفناک سائے جو ان کے تعاقب میں رہے تھے، اور وہ تمام عالمی سازشیں جو انہیں روکنے کے لیے بُنی گئی تھیں، اس سفید پہاڑ کی دھول میں دفن ہو چکی تھیں۔ پاکستان نے ہندوستان کے پانچ دھماکوں کے جواب میں 28 مئی کو پانچ اور پھر 30 مئی کو ایک مزید دھماکہ کر کے حساب برابر کر دیا تھا۔
دھماکوں کی خبر جیسے ہی میڈیا پر نشر ہوئی، پورے پاکستان میں جشن کا سماں پیدا ہو گیا۔ سڑکوں پر لوگ دیوانہ وار نکل آئے۔ مٹھائیاں بانٹی گئیں، مساجد سے تکبیر کی صدائیں بلند ہوئیں اور ہر آنکھ خوشی اور تشکر کے آنسوؤں سے نم تھی۔ وزیراعظم میاں نواز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے باقاعدہ اعلان کیا کہ آج پاکستان دنیا کی ساتویں اور اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بن چکا ہے۔ انہوں نے قوم کو مبارکباد دی اور ان دھماکوں کے دن کو ‘یومِ تکبیر’ کا نام دیا گیا۔ اب دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا وقت آ گیا تھا۔ بھارت کا وہ غرور اور تکبر جو چند دن پہلے تک آسمان سے باتیں کر رہا تھا، اب خاک میں مل چکا تھا۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان راتوں رات ایک غیر متنازعہ قومی ہیرو بن کر ابھرے۔ قوم نے انہیں ‘محسنِ پاکستان’ کے عظیم الشان لقب سے نوازا۔ جہاں بھی وہ جاتے، لوگ ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے اور ان کے ہاتھ چومتے۔ وہ ہر پاکستانی کے دل کی دھڑکن بن چکے تھے۔ حکومتِ پاکستان نے ان کی بے مثال خدمات کے اعتراف میں انہیں ملک کے اعلیٰ ترین سول اعزازات، نشانِ امتیاز اور ہلالِ امتیاز سے نوازا۔ یہ ان کی زندگی کا وہ عروج تھا جس کی تمنا ہر انسان کرتا ہے۔ لیکن تاریخ کا ایک تلخ سبق یہ بھی ہے کہ جب آپ کا قد پہاڑوں سے اونچا ہو جائے، تو سب سے زیادہ طوفانوں کا سامنا بھی آپ ہی کو کرنا پڑتا ہے۔
جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن تو بحال ہو گیا، لیکن امریکہ، اسرائیل اور مغربی دنیا کے ایوانوں میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ جس ‘اسلامی بم’ کو روکنے کے لیے انہوں نے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا تھا، وہ اب ایک حقیقت بن کر ان کے سامنے کھڑا تھا۔ مغربی دنیا کی خفیہ ایجنسیاں اور پالیسی ساز اپنی اس بدترین ناکامی پر آگ بگولہ تھے۔ انہوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اس بم کو تو شاید اب ختم نہ کر سکیں، لیکن اس بم کے خالق کو وہ کبھی معاف نہیں کریں گے۔
پاکستان پر سخت ترین معاشی پابندیوں کا ایک نیا اور خوفناک دور شروع ہوا۔ بیرونی امداد، قرضے اور تجارتی معاہدے سب منسوخ کر دیے گئے۔ لیکن یہ پابندیاں اس طوفان کا محض ایک پیش خیمہ تھیں جو چھپ کر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی طرف بڑھ رہا تھا۔ مغربی دنیا نے اب ایک نیا بیانیہ تراشنا شروع کر دیا تھا۔ ان کے میڈیا اور تھنک ٹینکس نے ایک منظم مہم کے تحت یہ شور مچانا شروع کر دیا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام دنیا کے لیے خطرہ ہے اور یہ ٹیکنالوجی دوسرے ممالک کو منتقل ہو سکتی ہے۔
سی آئی اے اور ایم آئی سکس (MI6) نے مل کر ایک انتہائی خفیہ اور خطرناک جال بچھانا شروع کیا جس کا واحد ہدف ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کا وہ وسیع نیٹ ورک تھا جس کے ذریعے انہوں نے ایٹمی پرزہ جات حاصل کیے تھے۔ وہ اس شخص کو دنیا کے سامنے ایک ولن بنا کر پیش کرنا چاہتے تھے تاکہ وہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں تک رسائی کا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز پیدا کر سکیں۔ ڈاکٹر خان جو کل تک پوری قوم کے ہیرو تھے، انہیں اندازہ بھی نہیں تھا کہ دشمنوں کی صفیں اب ان کے اپنے گھر کے اندر تک پہنچ چکی ہیں اور آنے والے چند سال ان کی زندگی کو ایک ایسے کربناک امتحان میں ڈالنے والے ہیں جس کا تصور بھی محال تھا۔
چاغی کے پہاڑوں نے ڈاکٹر خان کو ہیرو تو بنا دیا، لیکن مغربی دنیا ان کی جان کی دشمن بن گئی۔ اب ایک ایسی خوفناک عالمی سازش تیار ہو رہی تھی جس کا مقصد نہ صرف ان کی ساکھ کو مٹی میں ملانا تھا، بلکہ انہیں اپنوں ہی کے ہاتھوں ذلیل و خوار کروانا تھا۔ کیا ریاست اپنے محسن کو اس عالمی عفریت سے بچا پائی؟
کتاب: ڈاکٹر اے کیو خان آن سائنس اینڈ ایجوکیشن (Dr. A.Q. Khan on Science and Education)
کتاب: دی اسلامک بمب (The Islamic Bomb) از اسٹیو وائس مین اور ہربرٹ کروسنی
مئی 1998 کے اخباری تراشے، قومی آرکائیوز اور دفاعی تجزیہ کاروں کے مضامین
