محسنِ پاکستان: عالمی سازشیں اور قربانی کا بکرا
قسط چہارم
مؤلف: طارق اقبال سوہدروی
چاغی کے پہاڑوں میں گونجنے والی تکبیر کی صدائیں ابھی پوری طرح تھمی بھی نہیں تھیں کہ مغربی دنیا کے تاریک ایوانوں میں پاکستان اور اس کے ایٹمی اثاثوں کے خلاف ایک خوفناک سازش کے تانے بانے بنے جانے لگے۔ 1998ء کے دھماکوں نے جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن تو برابر کر دیا تھا، لیکن امریکہ، اسرائیل اور ان کے حواریوں کی نیندیں اڑا دی تھیں۔ وہ کسی بھی قیمت پر ایک اسلامی ملک کو ایٹمی طاقت کے طور پر تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے۔ جب وہ کہوٹہ کے سینٹری فیوجز کو چلنے سے نہ روک سکے، تو انہوں نے اپنا سارا غصہ اور توانائیاں اس عظیم ذہن کو تباہ کرنے پر مرکوز کر دیں جس نے یہ ناممکن کارنامہ سرانجام دیا تھا۔
دنیا تیزی سے بدل رہی تھی اور 2001ء میں نائن الیون کے واقعے نے عالمی سیاست کا رخ یکسر موڑ کر رکھ دیا۔ امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر خطے میں اپنے پنجے گاڑ دیے۔ پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت تھی، جس نے امریکی دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے بے شمار مطالبات تسلیم کر لیے تھے۔ مگر امریکہ کی اصل نظر القاعدہ سے زیادہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر تھی۔ مغربی انٹیلی جنس ایجنسیاں، خصوصاً سی آئی اے اور ایم آئی سکس، ایک عرصے سے اس بین الاقوامی سپلائی لائن کی کھوج میں لگی ہوئی تھیں جو ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے 80 کی دہائی میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو پرزہ جات فراہم کرنے کے لیے قائم کی تھی۔
اب مغربی پریس اور تھنک ٹینکس نے ایک نیا شوشہ چھوڑا اور ایک منظم پروپیگنڈا مہم شروع کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ڈاکٹر خان کا وہ نیٹ ورک، جو کبھی دنیا بھر سے حساس ٹیکنالوجی خریدتا تھا، اب مبینہ طور پر وہی ٹیکنالوجی ایران، شمالی کوریا اور لیبیا کو فروخت کر رہا ہے۔ اسے ‘نیوکلیئر پرولیفریشن’ یعنی ایٹمی پھیلاؤ کا نام دیا گیا۔ یہ الزامات انتہائی سنگین تھے اور ان کا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر ایک غیر ذمہ دار ریاست ثابت کر کے اس کے ایٹمی اثاثوں کو اقوام متحدہ یا کسی بین الاقوامی ادارے کے کنٹرول میں دینا تھا۔
یہاں یہ بات سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی کوئی ایسا کام نہیں جو کوئی ایک شخص اکیلے اپنے بریف کیس میں ڈال کر کر سکے۔ یہ ٹیکنالوجی، بھاری مشینری اور سینٹری فیوجز کے پرزہ جات سی ون تھرٹی (C-130) طیاروں اور بڑے بحری جہازوں کے ذریعے ہی منتقل ہو سکتے ہیں، جن کی کلیئرنس ریاست کی اعلیٰ ترین عسکری اور سویلین قیادت کے علم کے بغیر ناممکن ہے۔ مگر مغربی دنیا نے اپنی تمام تر توپوں کا رخ صرف اور صرف ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ذات کی طرف موڑ دیا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ اگر اس شخص کو نشانہ بنایا گیا تو پاکستان کا پورا ایٹمی ڈھانچہ متزلزل ہو جائے گا۔
اس عالمی سازش کو سب سے بڑی کامیابی 2003ء کے اواخر میں اس وقت ملی جب لیبیا کے حکمران معمر قذافی نے امریکی دباؤ میں آ کر اپنے خفیہ ایٹمی پروگرام کو یکطرفہ طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا اور اپنا تمام تر حساس ریکارڈ اور آلات امریکہ اور برطانیہ کے حوالے کر دیے۔ لیبیا سے ملنے والے سینٹری فیوجز کے ڈیزائن اور پرزہ جات کی کڑیاں مبینہ طور پر ڈاکٹر خان کے نیٹ ورک سے جا ملیں۔ امریکہ کے ہاتھ میں اب وہ ‘تمغہِ جرم’ آ چکا تھا جس کی اسے برسوں سے تلاش تھی۔ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی انتظامیہ نے جنرل پرویز مشرف پر دباؤ کی انتہا کر دی اور انہیں دو ٹوک الفاظ میں الٹی میٹم دیا گیا کہ یا تو ڈاکٹر خان کے نیٹ ورک کا خاتمہ کیا جائے یا پھر پاکستان سنگین نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہے۔
یہ وہ مقام تھا جہاں ایک تلخ اور المناک تاریخی حقیقت نے جنم لیا۔ ایک کمزور سیاسی اور ریاستی قیادت نے بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنے اور پوری حقیقت دنیا کے سامنے لانے کے بجائے، اپنے ہی محسن کو قربانی کا بکرا بنانے کا شرمناک فیصلہ کر لیا۔ جنوری 2004ء کا مہینہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور پوری پاکستانی قوم کے لیے ایک ایسا صدمہ لے کر آیا جس کا زخم آج بھی ہرا ہے۔ راتوں رات ڈاکٹر خان کو ان کے تمام سرکاری عہدوں سے برطرف کر دیا گیا۔ ان کے قریبی ساتھیوں اور سائنسدانوں کو تفتیش کے نام پر حراست میں لے لیا گیا۔
جو شخص کل تک قوم کی آنکھوں کا تارا اور ‘محسنِ پاکستان’ تھا، آج اسی کے گھر کا محاصرہ انھی ریاستی ایجنسیوں نے کر لیا تھا جو کبھی اس کی حفاظت پر مامور تھیں۔ اسلام آباد کے سیکٹر ای سیون میں واقع ان کی رہائش گاہ کو ایک سب جیل میں تبدیل کر دیا گیا۔ ان سے تمام رابطے منقطع کر دیے گئے اور ان پر انتہائی سخت اور تضحیک آمیز تفتیش کا آغاز ہوا۔ ایک ایسا شخص جس نے اپنی جوانی، اپنا کیریئر اور اپنی زندگی پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے وقف کر دی تھی، آج وہ اپنوں ہی کے ہاتھوں کٹہرے میں کھڑا تھا۔
ان تفتیشی نشستوں میں ان پر جو نفسیاتی دباؤ ڈالا گیا، اس کی داستان انتہائی کربناک ہے۔ ان سے کہا گیا کہ پاکستان اس وقت شدید امریکی دباؤ کی زد میں ہے اور اگر انہوں نے تمام تر ذمہ داری اکیلے اپنے سر نہ لی، تو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پاکستان پر پابندیاں لگا دے گی اور شاید ایٹمی تنصیبات پر حملے بھی ہو جائیں۔ ڈاکٹر خان، جن کے دل میں پاکستان کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری تھی، ایک بار پھر اپنی مٹی کی خاطر قربانی دینے پر مجبور کر دیے گئے۔ انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ اگر وہ قوم کے سامنے معافی مانگ لیں گے تو ان کی عزتِ نفس کو ٹھیس نہیں پہنچائی جائے گی اور انہیں مکمل صدارتی معافی دے کر ایک باعزت زندگی گزارنے دی جائے گی۔
فروری 2004ء کی وہ سیاہ شام پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جسے یاد کر کے آج بھی محبِ وطن پاکستانیوں کے سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔ سرکاری ٹیلی ویژن پر ایک نشریات پیش کی گئی جس میں بوڑھے اور تھکے ہوئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو قوم کے سامنے بٹھا دیا گیا۔ جس شخص کے چہرے پر کبھی ایک فاتح کا طمطراق ہوتا تھا، آج اس کی آنکھوں میں ایک گہری اداسی اور بے بسی تھی۔ انہوں نے ایک تحریر شدہ بیان پڑھا جس میں انہوں نے ایٹمی پھیلاؤ کی تمام تر ذمہ داری اکیلے اپنے اور اپنے نیٹ ورک کے چند افراد کے سر لے لی اور حکومتِ پاکستان یا فوج کو اس پورے معاملے سے مکمل طور پر بری الذمہ قرار دے دیا۔
اس اعترافی بیان نے پوری قوم پر سکتہ طاری کر دیا۔ سڑکوں پر چلتے لوگ رک گئے، گھروں میں ٹی وی اسکرینوں کے سامنے بیٹھے کروڑوں پاکستانیوں کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔ کسی کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ جس شخص نے انہیں ایٹمی تحفظ کی وہ چادر اوڑھائی تھی جس کے سائے میں وہ سکھ کی نیند سوتے تھے، آج اسے مجرموں کی طرح کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا ہے۔ یہ محض ایک سائنسدان کی تذلیل نہیں تھی، بلکہ یہ اس پوری قوم کے ضمیر کا جنازہ تھا جو اپنے محسنوں کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی تھی۔ یہ بیان دراصل ایک ایسا زہر کا پیالہ تھا جو ڈاکٹر خان نے ایک بار پھر صرف اور صرف پاکستان کی بقا کی خاطر اپنے ہونٹوں سے لگا لیا تھا۔
اگلے ہی دن صدر جنرل پرویز مشرف نے ایک پریس کانفرنس کی اور دنیا کے سامنے اعلان کیا کہ حکومتِ پاکستان ڈاکٹر خان کی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں صدارتی معافی دے رہی ہے۔ بظاہر یہ ایک رعایت لگتی تھی، لیکن درحقیقت یہ ایک ایسی عمر قید کی شروعات تھی جس نے اس عظیم سائنسدان کو جیتے جی مار دیا تھا۔ صدارتی معافی کے بعد ڈاکٹر خان کو ان کے اپنے ہی گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔ ان کے گھر کے چاروں طرف خفیہ ایجنسیوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کا پہرہ بٹھا دیا گیا۔ ان کے ٹیلی فون کاٹ دیے گئے، انٹرنیٹ کی سہولت چھین لی گئی اور ان سے ملنے جلنے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی۔
دنیا بھر کے غیر جانبدار دفاعی تجزیہ کار اور تاریخ دان آج بھی اس بات پر متفق ہیں کہ ایٹمی پرزہ جات کی اسمگلنگ، جو کہ ٹنوں وزنی سامان پر مشتمل ہوتی ہے، کسی ایک فرد کے بس کی بات نہیں ہو سکتی۔ یہ ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں سے ریاستی اداروں کی چشم پوشی یا خاموش رضامندی کے بغیر ممکن ہی نہ تھی۔ لیکن جب عالمی دباؤ کا طوفان آیا تو طاقتور حلقوں نے اپنی گردنیں بچانے کے لیے تمام تر ملبہ اس اکیلے شخص پر ڈال دیا جس کے پاس نہ تو کوئی سیاسی طاقت تھی اور نہ ہی وردی کا تحفظ۔ ڈاکٹر خان نے خاموشی سے یہ سارا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا لیا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر انہوں نے زبان کھولی تو پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر عالمی پابندیاں لگ جائیں گی اور ملک کا دفاعی حصار ٹوٹ جائے گا۔
گھر کی ان چار دیواریوں کے اندر ڈاکٹر خان کا کرب الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ وہ شخص جو کبھی پوری دنیا کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر پاکستان کے لیے ٹیکنالوجی لایا تھا، آج اپنے ہی ملک میں قیدی بن کر رہ گیا تھا۔ ان کی اہلیہ ہنی خان، جنہوں نے یورپ کی پرسکون زندگی چھوڑ کر پاکستان کا رخ کیا تھا، آج اس ریاستی بے حسی پر حیران اور دکھی تھیں۔ ان کے قریبی دوست احباب ان سے ملنے سے کترانے لگے تھے کیونکہ جو بھی ڈاکٹر خان کے قریب جاتا، ریاستی ایجنسیاں اس کے گرد گھیرا تنگ کر دیتیں۔
کئی سالوں پر محیط اس نظربندی کے دوران، جب بھی کبھی ڈاکٹر خان کا کوئی خط یا پیغام خفیہ ذرائع سے باہر آتا، تو اس میں شکوے سے زیادہ قوم کے لیے دعائیں ہوتیں۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ مجھے اس بات کا کوئی دکھ نہیں کہ میرے ساتھ کیا سلوک ہوا، مجھے تو خوشی اس بات کی ہے کہ میرا پاکستان آج محفوظ ہے۔ یہ ان کے ظرف کی انتہا تھی۔ انہوں نے خود کو تو قربانی کے کٹہرے میں پیش کر دیا، مگر پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر آنچ نہ آنے دی۔
لیکن ریاستی بے رخی کا یہ سلسلہ یہیں تک محدود نہیں رہا۔ آنے والے سالوں میں حکومتیں بدلیں، آمر رخصت ہوئے، نام نہاد جمہوری دور آئے، مگر کسی نے بھی محسنِ پاکستان کے گھر کے دروازے پر پڑے وہ بھاری تالے کھولنے کی جرات نہ کی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان، جنہوں نے پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنایا تھا، اب اپنی زندگی کی شام ان تنہائیوں میں گزارنے پر مجبور تھے جہاں ان کا واحد ساتھی ان کی کتابیں اور ان کا رب تھا۔
محسنِ پاکستان پر گزرنے والی یہ طویل اور اذیت ناک رات کب ختم ہوئی؟ ان کی زندگی کے آخری ایام، عدالتوں کے چکر، ان کے دل دہلا دینے والے خطوط اور وفات پر ریاست کا وہ سرد رویہ جس نے پوری قوم کو رلا دیا، ہم یہ سب جانیں گے اس سیریز کی آخری اور دل خراش قسط میں۔
کتاب: ڈاکٹر اے کیو خان آن سائنس اینڈ ایجوکیشن (Dr. A.Q. Khan on Science and Education)
کتاب: دھوکہ (Deception: Pakistan, the United States, and the Secret Trade in Nuclear Weapons) از ایڈرین لیوی اور کیتھرین سکاٹ کلارک
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نظربندی کے دوران لکھے گئے خطوط اور دفاعی تجزیہ کاروں کے انٹرویوز
