قصرِ فاطمہ کے بند کمرے کا خون آشام راز
قسط دوم
مؤلف: طارق اقبال سوہدروی
مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی تدفین کے بعد کراچی کی فضاؤں میں ایک ایسا بوجھل پن اور پراسراریت رچ بس گئی تھی جس نے پورے ملک کے سیاسی اور عوامی حلقوں کو شدید بے چینی میں مبتلا کر دیا تھا۔ مزار قائد کے احاطے میں وہ منوں مٹی تلے ضرور چھپ گئی تھیں، لیکن قصرِ فاطمہ کی وہ بند خوابگاہ آج بھی چیخ چیخ کر کسی ہولناک سچائی کی گواہی دے رہی تھی۔ ایوب خان کی حکومت نے بظاہر اس باب کو طبعی موت کا نام دے کر بند کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی، لیکن سچائی کی چنگاریاں ان کی ریاستی طاقت کے دبیز پردوں کو جلا کر راکھ کر رہی تھیں۔
موت کے چند روز بعد ہی جب سوگ کی ابتدائی شدت میں قدرے کمی آئی، تو کراچی کے بااثر حلقوں اور محترمہ کے قریبی رفقاء کے درمیان کچھ ایسی لرزہ خیز سرگوشیاں شروع ہوئیں جنہوں نے اقتدار کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کر دیا۔ یہ سرگوشیاں محض سیاسی افواہیں نہیں تھیں، بلکہ ان معزز اور باوقار خواتین کے چشم دید بیانات پر مبنی تھیں جنہیں مادرِ ملت کے جسدِ خاکی کو غسل دینے کی سعادت نصیب ہوئی تھی۔ ان میں نمایاں ترین نام سندھ کی معروف سیاسی اور سماجی شخصیت لیڈی صغریٰ ہدایت اللہ اور بیگم ہاشم رضا کا تھا، جن کی دیانتداری پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا تھا۔
غسل کے دوران ان خواتین نے جو کچھ دیکھا، وہ اس سرکاری بیانیے کے بالکل برعکس تھا جسے ریڈیو اور اخبارات کے ذریعے قوم کے ذہنوں میں ٹھونسا جا رہا تھا۔ جب محترمہ کے جسم کو غسل کے لیے تختے پر لٹایا گیا اور ان کا وہ لباس اتارا گیا جو انہوں نے موت کی رات پہن رکھا تھا، تو غسل خانے میں موجود خواتین پر سکتہ طاری ہو گیا۔ مادرِ ملت کے لباس پر خون کے واضح اور نمایاں دھبے موجود تھے۔ یہ کوئی ایسا معمولی نشان نہیں تھا جسے نظر انداز کیا جا سکتا، بلکہ یہ کسی گہرے زخم یا پرتشدد واقعے کی کھلی اور ناقابلِ تردید شہادت تھی۔
صورتحال اس وقت مزید ہولناک ہو گئی جب جسم کے تفصیلی معائنے کے دوران ان کی گردن اور پیٹ کے نچلے حصے پر زخموں کے انتہائی مشکوک اور گہرے نشانات پائے گئے۔ لیڈی ہدایت اللہ نے بعد ازاں اپنے قریبی حلقوں اور تاریخ دانوں کو بتایا کہ محترمہ کے گلے پر کسی تیز دھار آلے یا تار سے گلا گھونٹنے کا واضح کٹ موجود تھا، جبکہ پیٹ پر بھی ایک ایسا زخم تھا جس سے خون رس کر ان کے کپڑوں تک پہنچا تھا۔ ایک ایسی بزرگ اور نحیف خاتون جن کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ پرسکون نیند کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے خالق حقیقی سے جا ملیں، ان کے جسم پر ایسے بہیمانہ تشدد کے نشانات اس بات کا حتمی ثبوت تھے کہ قصرِ فاطمہ کی اس سیاہ رات میں کوئی انتہائی سفاکانہ واردات رچی گئی تھی۔
حکومتی اہلکاروں اور پولیس کی اس بے حسی اور جلد بازی کو دیکھ کر غسل دینے والی خواتین کو سخت صدمہ پہنچا۔ جب انہوں نے خون آلود کپڑوں اور بستر کی چادروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سوالات اٹھائے، تو وہاں موجود اعلیٰ حکام نے انہیں سختی سے خاموش رہنے کی تلقین کی۔ ان کپڑوں کو فوراً قبضے میں لے لیا گیا اور نہایت پراسرار انداز میں غائب کر دیا گیا تاکہ مستقبل میں کوئی ان کا فرانزک تجزیہ نہ کر سکے۔ ریاست کی پوری مشینری اس وقت قاتلوں کی تلاش کے بجائے ان شواہد کو مٹانے میں مصروف تھی جو اس قتلِ ناحق کی گواہی دے رہے تھے۔
اس سازش کا ایک اور انتہائی پراسرار اور پیچیدہ پہلو وہ چابیاں تھیں جو محترمہ فاطمہ جناح اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتی تھیں۔ مادرِ ملت کو اپنی سیکیورٹی اور اردگرد کے حالات کا بخوبی اندازہ تھا، اسی لیے وہ رات کو سونے سے پہلے نہ صرف اپنے کمرے کو اندر سے مقفل کرتی تھیں، بلکہ اپنے مطالعے کے کمرے اور اہم دستاویزات کی الماریوں کی چابیاں بھی اپنے سرہانے تکیے کے نیچے رکھ کر سوتی تھیں۔ لیکن اس منحوس صبح جب دروازہ توڑا گیا اور لوگ اندر داخل ہوئے، تو وہ چابیاں اپنی جگہ سے غائب تھیں۔
چابیوں کا اس طرح غائب ہونا اس بات کی طرف واضح اشارہ تھا کہ قاتل محض ان کی جان لینے نہیں آیا تھا، بلکہ اس کا اصل ہدف وہ انتہائی حساس دستاویزات اور ثبوت تھے جو محترمہ نے اپنی الماریوں میں محفوظ کر رکھے تھے۔ فاطمہ جناح کے پاس بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے کئی ایسے ذاتی خطوط، خفیہ دستاویزات اور سیاسی ڈائریاں موجود تھیں جن میں اس نوزائیدہ مملکت کے کئی ایسے راز دفن تھے جن کے منظر عام پر آنے سے کئی نامور سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے چہروں سے نقاب الٹ سکتے تھے۔
قصر فاطمہ کے عملے کے بیانات کے مطابق، جب محترمہ کی تدفین کے بعد ان کے مطالعے کے کمرے کا جائزہ لیا گیا تو وہاں کا سامان بکھرا ہوا تھا اور کئی اہم فائلیں اور دستاویزات غائب تھیں۔ قاتل جو کوئی بھی تھا، اسے نہ صرف قصر فاطمہ کے چپے چپے کا علم تھا، بلکہ اسے یہ بھی بخوبی معلوم تھا کہ کون سی دستاویزات کہاں رکھی ہیں اور انہیں کس طرح وہاں سے نکالنا ہے۔ یہ کوئی عام چوری یا ڈکیتی کی واردات نہیں تھی، بلکہ ایک انتہائی منظم، سوچی سمجھی اور ریاستی سرپرستی میں کی گئی تخریب کاری تھی جس کا مقصد ایک آواز کو ہمیشہ کے لیے خاموش کرنا اور تاریخ کے اہم ترین شواہد کو مٹانا تھا۔
محترمہ کے قریبی طبی مشیروں اور دیگر عملے کو بھی اس واقعے کے بعد شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ جب انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ موت کے اسباب غیر طبعی لگتے ہیں اور اس کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے، تو انہیں مبینہ طور پر انتہائی سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔ ڈاکٹرز اور غسل دینے والی خواتین کو یہ باور کرایا گیا کہ اگر انہوں نے اس معاملے پر زبان کھولی تو ان کا حشر بھی وہی ہوگا جومادرِ ملت کا ہوا ہے۔ اس خوف اور جبر کے ماحول میں سچائی کو ایک طویل عرصے تک کے لیے قصرِ فاطمہ کی دیواروں میں دفن کر دیا گیا۔
اس واقعے کا ایک اور اندوہناک پہلو پولیس اور انتظامیہ کا وہ مجرمانہ کردار تھا جو انہوں نے جائے وقوعہ کی حفاظت میں ادا کیا۔ کسی بھی مشکوک موت کی صورت میں، پولیس کا پہلا کام جائے وقوعہ کو سیل کرنا اور فرانزک شواہد اکٹھے کرنا ہوتا ہے۔ لیکن موہٹا پیلس میں اس کے بالکل برعکس ہوا۔ پولیس نے کمرے کو سیل کرنے کے بجائے وہاں لوگوں کی بلا روک ٹوک آمد و رفت کی اجازت دی، جس سے اگر کوئی انگلیوں کے نشانات یا دیگر ثبوت موجود بھی تھے، تو وہ مکمل طور پر ضائع ہو گئے۔ کمرے کے فرش اور بستر کو اس قدر عجلت میں صاف کیا گیا جیسے کوئی وہاں سے کسی خونی درندے کے قدموں کے نشان مٹانا چاہتا ہو۔
یہاں یہ سوال بڑی شدت سے ابھرتا ہے کہ قصرِ فاطمہ، جس کے باہر پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کا سخت پہرہ رہتا تھا، وہاں کوئی بیرونی شخص رات کی تاریکی میں اتنی آسانی سے کیسے داخل ہو سکتا تھا؟ قاتل نے نہ صرف دیواریں پھلانگیں، بلکہ وہ ایک ایسے کمرے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا جس کا دروازہ اندر سے بند تھا۔ بعض تحقیقاتی صحافیوں کا ماننا ہے کہ اس قتل میں محترمہ کے اپنے ہی عملے کے کسی فرد کی درپردہ معاونت شامل تھی، جسے یا تو بھاری رقم کا لالچ دیا گیا تھا یا پھر اسے ریاستی جبر کے ذریعے اس گھناؤنے فعل پر مجبور کیا گیا تھا۔
ایک نظریہ یہ بھی پیش کیا جاتا ہے کہ قاتل شاید پہلے سے ہی محل کے اندر موجود تھا، یا وہ کھڑکی کے راستے اس وقت اندر داخل ہوا جب محترمہ گہری نیند سو رہی تھیں۔ کمرے میں کوئی جدوجہد یا مزاحمت کے نشانات نہیں ملے، جس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ قاتل نے انتہائی مہارت اور تیزی سے اپنا کام مکمل کیا اور محترمہ کو سنبھلنے یا مدد کے لیے پکارنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ تیز دھار آلے سے گلا گھونٹنا اور پیٹ میں وار کرنا، یہ کسی پیشہ ور اور تربیت یافتہ قاتل کا ہی کام ہو سکتا ہے جو اپنے ہدف کو مکمل طور پر ختم کرنے کے ارادے سے آیا ہو۔
مادرِ ملت کی پراسرار ہلاکت نے ایوب خان کی حکومت پر وہ انمٹ دھبہ لگا دیا جسے وہ اپنی تمام تر سیاسی اور فوجی طاقت کے باوجود کبھی دھو نہ سکے۔ اگرچہ انہوں نے اس واقعے کو ایک معمول کی موت قرار دے کر فائل بند کر دی تھی، لیکن تاریخ کی عدالت میں وہ آج بھی اس کٹہرے میں کھڑے ہیں جہاں سے انہیں کبھی رہائی نہیں مل سکی۔ ان کے دورِ اقتدار میں ہونے والی اس ہولناک واردات نے ملک کی جمہوری بنیادوں کو ایک ایسا گہرا زخم دیا جس کی تکلیف آج بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔
مادرِ ملت کی پراسرار ہلاکت کے بعد، ان کے قریبی رفقاء، بالخصوص مرزا ابوالحسن اصفہانی اور دیگر مسلم لیگی رہنماؤں نے جب اس قتل کی شفاف اور عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا، تو ریاست کی جانب سے انہیں کیسا ردعمل ملا؟ اور وہ کون سے سیاسی اور عالمی عوامل تھے جنہوں نے ایوب خان کو ایک ایسی بزرگ اور نہتی خاتون سے اس قدر خوفزدہ کر دیا تھا کہ وہ ان کی جان لینے پر مجبور ہو گئے؟
۱۔ مادرِ ملت کا پراسرار قتل از ایم اے ایچ اصفہانی کے بیانات و دستاویزات
۲۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے گمشدہ اوراق، عقیل عباس جعفری کی تحقیقات
۳۔ مائی برادر (My Brother) از فاطمہ جناح اور اس کے حواشی
